جمیل ملک کی یاد میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
1970 کے آخری ایام میں ریڈیو پاکستان لاہور کی عمارت میں اچانک ایک نئی شخصیت نظر آنے لگی: گہرے نیلے یا سلیٹی رنگ کے سُوٹ میں ملبوس یہ بارعب شخص کوئی افسرِاعلیٰ تو نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ عمر تیس برس سے زیادہ دکھائی نہ دیتی تھی لیکن خوش لباسی، اندازِ نشست و برخاست اور گفتگو میں انگریزی لفظوں کی بھر مار کسی اعلیٰ سِول عہدے کا تاثر دیتی تھی۔ چند روز بعد عُقدہ کھُلا کہ موصوف ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے تشریف لائے ہیں اور عہدے کے لحاظ سے محض ایک پروگرام پروڈیوسر ہیں۔ کچھ ہی عرصہ بعد انہیں پروڈیوسر سے اگلا درجہ مل گیا یعنی پروگرام آرگنائزر، لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی کھُلی کہ جمیل ملک نامی یہ شخص صرف پروڈیوسر ہی نہیں بلکہ خود کہانی لکھتا ہے، لوگوں کی کہانیوں کو ڈراموں میں ڈھالتا ہے، موسیقی کے بارے میں خاصا علم رکھتا ہے۔ پاک و ہند کی فلمی تاریخ کے ساتھ ساتھ ہالی وُڈ کی کلاسیکی فلموں کا مداح اور جانکار بھی ہے۔ کیونکہ سن تیس اور چالیس کے عشروں کی ساری بلیک اینڈ وہائٹ امریکی فلمیں اُسے شاٹ ۔ ٹو ۔ شاٹ زبانی یاد تھیں۔ جیمز کیگنی سے ہمفری بوگارٹ اور کلارک گیبل تک سب ہی اداکاروں کے معروف مکالمے اسے ازبر تھے اور سیسل بی ڈی مِل سے جان فورڈ تک ہر ہدایتکار کا حیات نامہ وہ محض اپنی یادداشت کے زور پر سنا سکتا تھا۔ جمیل ملک سر تا پا ایک فلمی آدمی تھا لیکن اس کا خاندان عرصہ پہلے گوجرانوالہ سے کوئٹہ منتقل ہو گیا تھا چنانچہ اُن کا بچپن اور جوانی لاہور کی فلم نگری سے بہت دُور گزری تاہم ریڈیو پاکستان کی ملازمت کے دوران جونہی اُن کا تبادلہ لاہور ہوا، انہوں نے فلم سٹوڈیو کا رُخ کیا اور اپنی دلکش شخصیت کے بل بوتے پر تھوڑی ہی مدت میں فلم انڈسٹری کے بہت سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ اسی دوران میں اُن کی شادی پاپولر ناول نگار حمیدہ جبیں سے ہو چکی تھی۔ چنانچہ اپنی بیگم کے ایک ناول کی کہانی لیکر انہوں نے اپنی پہلی فلم پروڈیوس کی اور ہدایتکاری کےلئے اُس وقت کے نوجوان اور ہونہار ہدایتکار ایس سلیمان کو چُنا۔ یہ وہی فلم تھی جسکا گیت: ’ رنجش ہی سہی دِل ہی دُکھانے کےلئے آ‘ گلی گلی گونج اُٹھا۔ یہ گیت احمد فراز اور مہدی حسن کی اُن مشترکہ کاوشوں کا نقطۂ عروج تھا جو ’اب کے ہم بچھڑے تو شاید ۔۔۔‘ سے شروع ہوئیں اور مہدی حسن کی علالت سے کچھ پہلے تک جاری رہیں۔
دو برس بعد جمیل ملک نے خود ایک فلم تحریر کی جسکا نام تھا لال آندھی۔ یہ فلم سرور سکھیرا نے پروڈیوس کی لیکن اس میں رائٹر کی مرضی کے خلاف اتنی تبدیلیاں کر دی گئیں کہ اس کی ناکامی کی ذمہ داری کبھی مصنف نے اپنے سر نہ لی۔ ریڈیو پاکستان کوئٹہ عرصہء دراز تک صداکاروں، اداکاروں، رائٹروں اور ڈائریکٹروں کےلئے ایک تربیت گاہ کا کام کرتا رہا تھا۔ اس دور دراز پہاڑی سٹیشن پر بعض اوقات پروڈیوسروں کو خود ہی ڈرامہ لکھنا پڑتا اور خود ہی اس میں صداکاری بھی کرنی پڑتی۔ جمیل ملک کوئٹہ کی اسی تربیت گاہ کے سند یافتہ تھے اور آواز میں ایک فطری دبدبہ اورطنطنہ تھا۔ مرثیہ خوانی سے لیکر مغلِ اعظم کی صداکاری تک انہیں مائیکروفون کےسامنے کسی طرح کی جھجھک محسوس نہ ہوتی تھی۔ اُن کی آواز کے جادو سے متاثر ہوکر سلمان پیرزادہ نے انہیں اپنی فلم ’زرگُل‘ میں ولن کا رول دیا جو انہوں نے بخوشی قبول کیا اور بخوبی نبھایا۔
کچھ عرصے بعد یہ رجحان غریب طبقے سے نکل کر درمیانے اور اونچے طبقے میں بھی پہنچ گیا اور بلآخر فلم انڈسٹری کی خواتین بشمول نورجہاں، شمیم آراء اور زیبا نے بھی بہت سی ذاتی جائیداد خرید لی۔ جب کاروبار اتنا پھیل گیا تو جمیل ملک نے ریڈیو کی نوکری چھوڑ کر بیگم کے کاروبار میں شمولیت اختیار کرلی۔ تاہم ایک بڑی کاروباری شخصیت بننے کے بعد بھی لکھنے لکھانے کا کام جاری رکھا چنانچہ لاہور ٹیلی ویژن کے اوّلین رنگین سیریل ’جگ بیتی‘ کے بعد انہوں نے ’رات ریل اور خط‘ٰ اور ’ایک حقیقت ایک افسانہ‘ جیسے سلسلوں کے لئے بہت سے کھیل تحریر کئے۔ اشفاق احمد کے ایک کھیل ’مایا اور مون سون‘ میں انہوں نے انکل کا یادگار کردار ادا کیا لیکن ان ہی دِنوں کے ایک کھیل ’گھر بنایا چاہیئے‘ میں ڈاکٹر کا مرکزی کرادار شاید اُن کی زندگی کا بہترین کردار تھا۔ اپنے قارئین کی دلچسپی کےلئے ہم بتانا چاہیں گے کہ 94-1993 میں جمیل ملک نے بی بی سی اُردو سروس سے نشر ہونے والے تین ڈراموں میں بھی مختلف کردار ادا کئے تھے۔ نظریاتی طور پر جمیل ملک خاصے کٹّر قوم پرست پاکستانی تھے اور بھارتی فلموں اور ڈراموں کی نمائش کے سخت مخالف تھے۔ انہوں نے کبھی یورپ یا امریکہ جانے کی خواہش ظاہر نہ کی تھی لیکن چند برس پہلے جب اُن کے بیگم کو کینسر کا جان لیوا مرض لاحق ہوا تو بیوی کے علاج کی خاطر انہیں بادلِ ناخواستہ لندن کےکئی چکر لگانے پڑے۔ بیگم کی موت کے بعد وہ بجھ سے گئے تھے اور کئی برس انہوں نے گوشۂ گمنامی میں گزار دیئے۔ کچھ عرصہ قبل دوستوں کے شدید اصرار پر انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے ایک ٹاک شو میں شرکت شروع کردی۔ اُن کی روایتی خوش مزاجی آہستہ آہستہ واپس آرہی تھی۔ وہ مائیکرو فون کے سامنے اور مائیکرو فون سے دور بھی دوستوں اور ساتھیوں پر طنز و مزاح کے تیر چھوڑنے لگے تھے۔ انہیں سٹیج کے کمرشل ڈراموں میں بھی نئے سرے سے دلچسپی پیدا ہوگئی تھی اور ہر کامیڈین کا بہترین کام انہیں زبانی یاد ہو گیا تھا۔۔۔ لیکن دو روز پہلے اپنے ریڈیو ٹاک شو کے دوران وہ اچانک سنجیدہ ہوگئے اور گمبھیر آواز میں یہ شعر پڑھا: ساتھیوں کو ہنستے کھیلتے ماحول میں یہ بے وقت کی راگنی بڑی عجیب سی لگی۔۔۔ لیکن اگلے روز جب جمیل ملک ٹاک شو پہ نہ پہنچ پائے تو سب کو تشویش ہوئی۔ پتہ چلا کہ دِل کا دورہ پڑا ہے، اور ہسپتال پہچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے ہیں۔ تماشا چلتا رہتا ہے لیکن جو شو مین ایک بار رخصت ہوجائے، وہ کبھی واپس نہیں آتا۔ |
اسی بارے میں اسد امانت علی انتقال کرگئے08 April, 2007 | فن فنکار آہو چشم راگنی چل بسیں28 February, 2007 | فن فنکار ’ٹام اینڈ جیری‘ کے خالق نہیں ر ہے19 December, 2006 | فن فنکار رِشی کیش مُکھرجی نہیں رہے 27 August, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||