اسد امانت علی انتقال کرگئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف گلوکار اسد امانت علی خان دل کا دورہ پڑنے کے باعث لندن میں انتقال کر گئے ہیں۔ اسد امانت علی خان، استاد امانت علی خان کے صاحبزادے، استاد فتح علی اور استاد حامد علی خان کے بھتیجے اور اورشفقت امانت علی خان کے بڑے بھائی تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے معروف پٹیالہ گھرانے سے تھا۔اپنے والد استاد امانت علی کی وفات کے بعد انشا جی کی لکھی اور استاد امانت کی گائی غزل’انشا جی اٹھو اب کوچ کرؤ‘ گانے کے بعد اسد علی خان کو اولین شناخت اور مقبولیت حاصل ہوئی۔ انہیں خاص طور ’عمراں لنگھیاں پباں بھار‘ اصل شناخت ہوئی اور اس کے بعد وہ انتقال تک گائیکی کے ایک درخشاں ستارے رہے۔ اسد امانت نے غزل کے علاوہ فلمی گیت، ٹھمری، لوک گیت اور دیگر اصناف کی گائیکی کے علاوہ اپنے گھرانے کی پہچان کلاسیکی موسیقی میں بھی نام پیدا کیا۔ انہوں نے اپنی گلوکاری کی ابتدا ریڈیو پاکستان لاہور سے کی اور پھر ٹیلی ویژن پر متعدد محافل موسیقی میں شرکت کرنے کے علاوہ ملک بھر میں اور بیرون ملک اپنی آواز کا جادو جگایا۔ پٹیالہ گھرانے میں اسد امانت علی کے بزرگوں میں انکے والد استاد امانت علی خان اور چچا استاد فتح علی خان اور استاد حامد علی خان کے علاوہ دوسرے کلاسیکی موسیقی کے بڑے نامور استاد بڑے فتح علی خان، استاد عاشق علی خان اور استاد اختر حسین ہیں اور اسد امانت علی بھی انہیں عظیم گلوکاروں کے فن کے امین تھے۔
اسد امانت علی اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں اپنی گائیکی کے روپ میں طویل عرصے تک زندہ رہیں گے۔ | اسی بارے میں ’یاسین قوال کا چھوکرا‘23 March, 2007 | پاکستان ہر لمحہ ایک لطف: لتا منگیشکر28 September, 2006 | فن فنکار لتا پچھہتر کی ہوگئیں28 September, 2003 | فن فنکار غزل کے بادشاہ26 June, 2004 | فن فنکار نصیبو لعل کے گانے پر پابندی کا مطالبہ03 August, 2004 | فن فنکار بینڈز کی مقبولیت، گانے یا وڈیوز؟ 01 August, 2004 | فن فنکار پانچ ماہ میں پچاس لاکھ گانے فروخت24 February, 2004 | فن فنکار بیرونی لِنک بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||