غزل کے بادشاہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سہگل سے میرا تعرف بچپن ہی میں ہو گیا تھا۔ میری ماں اکثر سہگل کے گیت گنگنایا کرتی تھیں اور گھر میں نیو تھیٹر کی فلموں کا ذکر ہوتا تھا۔ سہگل نے نیو تھیٹر سے ہی اپنے فِلمی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ’جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کے کیا کریں گے‘، ’سو جا راجکماری سو جا‘ اور ساٹھ کی دہائی تک سہگل کا انداز پرانا ہو چکا تھا۔ نئے موسیقار اور نئے گلوکاروں کا بول بالا تھا۔ جب سہگل گاتے تھے تو آرکیسٹرا کے نام پر ہارمونیم، تبلا ، سارنگی اور دو تین ساز ہوا کرتے تھے۔ جب بھی میں ریڈیو پر ان کے گانے سنتی تو اس کا اثر بہت گہرا ہوتا تھا۔ گانا اور اداکاری چاہے ان کا پیشہ ہی کیوں نہ رہا ہو لیکن موسیقی ان کی روح اور ان کی زندگی تھی۔ سہگل کو غزلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ انہوں نے فلموں کے ذریعے غزلوں کو مقبول بنایا۔ مشہور گلوکار مکیش نے شروع میں غزلوں میں سہگل کی ایسی نقل کی کہ سننے والوں کو بھرم ہونے لگا کہ کہیں سہگل ہی تو نہیں ہیں ۔ مشہور موسیقار انل بسواس نے ایک بار کہا تھا کہ جب مکیش ان کے پاس آئے تو وہ دوسرے سہگل بننا چاہتے تھے۔ ’ دل جلتا ہے تو جلنے دو ‘ گا کر انہوں نے یہ ثابت بھی کر دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ سہگل کے انداز میں بناوٹ نہیں تھی ایسا لگتا تھا جیسےکہ باتیں کرتے کرتے گانا شروع کر دیا ہو ۔ کہتے ہیں کہ بھارتی موسیقی بہتی ندی کی طرح ہے جو ہر وقت بہتی رہتی ہے۔ سہگل کے انتقال کے پچاس سال بعد بھی ان کی موسیقی اور آواز کا دھارا رواں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||