نصیبو لعل کے گانے پر پابندی کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں علماء نے گلوکارہ نصیبو لعل کے ’توہین آمیز‘ گانے پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ مذہبی رہنماؤں کو نصیبو لعل اور اکرم راہی کے گانے کے بول ’نصیب ساڈھے لکھے رب نیں کچی پنسل نال (رب تعالیٰ نے ہمارے نصیب کچی پنسل سے لکھے ہیں)‘ پر اعتراض ہے اور وہ اسے توہین آمیز قرار دے رہے ہیں۔ جموں میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ نصیبو لعل اور اکرم راہی کا یہ گانا ریاست جموں و کشمیر میں بہت مقبول ہے اور میوزک سنٹروں پر اس کے کیسٹ دھڑا دھڑ فروخت ہو رہے ہیں۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دو علماء نے اس گانے کے خلاف فتوہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ اس گانے کا سننا حرام ہے۔ راجوڑی کی جامع مسجد کے امام مولوی حافظ اعجاز کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اس گانے میں خدا تعالیٰ کے قلم کو عام کچی پنسل کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو غیر اسلامی اور توہین آمیز ہے۔ ’جو بھی اس کیسٹ کو بیچے یا خریدے گا وہ جہنم میں جائے گا۔‘ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس یہ کیسٹ ہے تو وہ اسے پھینک دیں۔ دوسری طرف میوزک سنٹر کے مالکان کا کہنا ہے کہ فتوے کے باوجود اس گانے کے کیسٹ دھڑا دھڑ فروخت ہو رہے ہیں اور ان کے لئے اس کیسٹ کی بڑھتی ہوئے ڈیمانڈ کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||