کویت: مور کی فلم پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کویت نے مائیکل مور کی متنازعہ دستاویزی فلم ’فیرن ہائٹ نائین الیون‘ کی نمائش ہر پابندی عائد کر دی ہے اور کہا ہے کہ اس فلم میں سعودی شاہی خاندان کی تذلیل کی گئی ہے۔ کویتی حکام کو اس فلم پر یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ اس میں امریکہ کے عراق پر قبضےکو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ کویتی وزارت اطلاعات کے عبدالعزیر بو دستور کا کہنا ہے کہ کویتی قانون دوست ممالک کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔‘ مائیکل مور کی فلم ’فیرن ہائٹ نائین الیون‘ کی نمائش پر کھڑے ہونے والی تنازعات نے اسے باکس آفس پر ریکارڈ ساز دستاویزی فلم بنانے میں مدد دی ہے۔ مائیکل مور کی فلم ’فیرن ہائٹ نائین الیون‘ نے کان کے فلم میلے میں اعزاز جیتا تھا۔ اس فلم نے امریکہ و کینیڈا میں باکس آفس پر ایک سو ملین ڈالر کا بزنس کیا تھا۔ اس فلم میں صدر جارج بش پر تنقید کی گئی ہے کہ وہ گیارہ ستمبر کو ہونے والے حملوں کے بارے میں پوری طرح تیار نہیں تھے اور انہوں نے محض عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے پروپیگنڈا کیا تھا۔ فلم میں سعودی شاہی خاندان پر بھی تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سعودی شہریوں کو ملک سے نکلنے کی خاص اجازت دی گئی تھی حالانکہ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی فضائی حدود میں پرواز پر پابندی تھی۔ عبدالعزیر بو دستور نے کہا ہے کہ ’اس فلم میں سعودی شاہی خاندان کی تذلیل یہ کہہ کر گئی کہ صدر بش اور سعودی شاہی خاندان کے مفادات یکساں تھے اور یہ امریکی عوام کے مفادات کو بالکل خلاف دکھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس فلم میں عراق کو ایک جنت کے طور پر دکھایا گیا ہے جس کی بربادی کا آغاز صرف امریکی قبضے کے بعد سے شروع ہوا اور بقول ان کے یقیناً اس بات نے کویتی عوام کو بھڑکایا ہوگا‘۔ لندن میں سعودی عرب کے سفیر پرنس ترکی الفیصل کا کہنا ہے کہ مائیکل مور اس دستاویزی فلم کے لیے مکمل ریسرچ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ کویت کے سرکاری ادارے کویت نیشنل سینیما نے اس فلم کی نمائش کے لیے حکومت سے اجازت طلب کی تھی مگر سینسر بورڈ کی طرف سے یہ درخواست مسترد کر دی گئی ہے۔ یہ فلم لبنان اور مشرقِ وسطی کے دوسرے ممالک کے سنیما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||