بینڈز کی مقبولیت، گانے یا وڈیوز؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کئی میوزیکل بینڈز نے اپنی قسمت آزمائی کی ہے۔ کچھ تو ایک دو مرتبہ آکر منظر عام سے غائب ہوجاتے ہیں لیکن چند بینڈز ایسے بھی ہیں جو لوگوں میں کافی مقبول ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ بینڈز ہر طرح کے نئے تجربات کرنے پر کمربستہ ہیں۔ کچھ تو آسان راستہ ڈھونڈ کر مقبول بین الاقوامی دھنوں کی نقل تیار کرنے سے بھی نہیں جھجکتے جبکہ کچھ بینڈز مشرق و مغرب کی موسیقی یکجا کرکے لوگوں کے دلوں تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں میوزک بینڈز کے رجحان کی ابتدا پندرہ سولہ برس قبل اسلام آباد کے گروپ وائٹل سائنز سے ہوئی۔ ان کا پہلا گانا دل دل پاکستان آج بھی لوگوں کے دلوں پر نقش ہے۔ سٹرنگز کے بلال مقصود کے مطابق یہ کہنا بھی ایک حد تک درست ہے کہ پاکستان میں پاپ میوزک بینڈز کا آغاز نازیہ اور زوہیب حسن سے ہوا تھا ’لیکن چونکہ وہ پاکستان کی پروڈکٹ نہیں تھے اس لیے ان کے لیے پاکستانی مزاج کو سمجھنا آسان نہ تھا۔ اور جو موسیقی وہ بنا رہے تھے وہ پاکستانی نہیں تھی وہ ایک بھارتی میوزک ڈائریکٹر کی دھنیں تھیں جنہیں پاکستان میں سراہا تو گیا مگر وہ پاکستان کی موسیقی نہیں تھی‘۔ بقول بلال ابتدا تو وائٹل سائنز نے ہی کی۔ پھر جنون ، جیوپٹرز اور کئی میوزک گروپس نے جنم لیا۔ جو بنتے ٹوٹتے رہے اور کبھی راک، کبھی خالص بھنگڑہ، کبھی پاپ اور کبھی ان سبھی کا امتزاج سننے کو ملتا رہا۔ وائٹل سائنز سے وابستہ موسیقار اور گلوکار جنید جمشید نے آج بننے والےگانوں کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے کہا ’دیکھا جائے توان گروپس کی کامیابی میں میوز ک ویڈیوز سے زیادہ کردار نئے نئے میوزک چینلز کا ہے۔ جو ان بینڈز کی مقبولیت کا ذریعہ ہیں‘۔ فیوژن کے شفقت امانت علی کا کہنا ہے ’لوگوں میں اب یکسانیت سے ایک طرز کا میوزک سننے کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے جو کنسرٹ میں آتے ہیں وہ اگر کسی راک بینڈ کی دھن پر جھوم رہے ہوتے ہیں تو وہیں دوسرے لمحے وہ کسی نرم اور مدھر گانے کی فرمائش کر دیتے ہیں‘۔ ’اسی لیے اب ہم نے سوچا ہے کہ ہم اب تک تو کچھ ملا جلا کر شوگر کوٹڈ کام کر رہے تھے لیکن اب آنے والی البم میں ایک نیا فیوژن سننے والوں کو ملے گا جس میں عربی اور ایشائی کلاسیکل کو یکجا کیا گیا ہے‘۔ سننے والوں کا کہنا ہے کہ آئے دن ریلیز ہونے والے یہ میوزک ویڈیوز موسیقی پر کم اور خود پر زیادہ توجہ دیتے نظر آتے ہیں۔ کراچی کے نوجوانوں نے جہاں اس کو سراہنے سے انکار کیا وہیں بہت سوں کا کہنا تھا کہ وہ اس دن بدن بدلتے ٹرینڈ سے خاصے خوش ہیں اور اب پاکستانی بینڈز دنیا بھی میں پاکستان کی پہچان کا حصہ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب پاکستانی راک کے مداحوں کی بڑی تعداد لڑکیوں پر مشتمل ہے جوگٹار خرید کر اپنا شوق پورا کرنے کی خواہشمند ہیں۔ کافی سننے والوں نے اس بات کو بھی سراہا کہ سٹرنگز کا گانا نہ جانے کیوں سپائڈر مین میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن جہاں سننے والے ان گروپس کو سراہتے ہیں وہیں ان کا سننے کا مزاج بھی گاہے گاہے بدلتا رہتا ہے اور اسی لیے بقول سٹرنگز کے فیصل کپاڈیا کے کہ ہمیں اپنی ہر نئی البم کی ریلیز کے لیے وقت سے آگے چلنا ہوتا ہے تا کہ جب یہ البم مارکیٹ میں آئے تو سننے والوں کی توقعات پر پورا اتر سکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||