موسیقار او پی نیر کا انتقال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نامور موسیقار او پی نیر کا اتوار کے روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ سولہ جنوری کو وہ اکیاسی برس کے ہو گئے تھے۔ او پی نیر اپنے گھر والوں سے دور وہ اپنے منہ بولے بیٹے کے ساتھ ممبئی کے علاقے ٹھانے میں رہتے تھے اور گزشتہ ڈھائی ماہ سے وہ بستر پر ہی تھے۔ ’اڑیں جب جب زلفیں تیری‘، ’بابو جی دھیرے چلنا‘ اور ’لے کے پہلا پہلا پیار‘ جیسے نغموں کے خالق مسٹر نیر کے انتقال پر بالی وڈ غم زدہ ہے۔ موسیقار آنند جی کے نزدیک نیر صاحب کی موت نے انڈسٹری ہی نہیں موسیقی کو سمجھنے اور اسے چاہنے والوں کی زندگی میں بھی خلاء پیدا کر دیا ہے۔ مسٹر آنند کا کہنا تھا کہ نیر صاحب ایک زندہ دل انسان تھے۔ انہوں نے انڈسٹری کو صحیح سر اور تال دیا۔ آنند جی کے مطابق نیر صاحب اصولوں کے بہت پابند تھے۔ موسیقی کے معاملہ میں وہ کبھی کسی کے سامنے نہیں جھکے۔ انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی موسیقی سے لافانی نغمے پھوٹے جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ بالی وڈ فلموں کو یادگار کبھی نہ بھولنے والے گیت دینے والے مشہور موسیقار اوم کار پرساد نیر کی ولادت لاہور میں سولہ جنوری انیس سو چھبیس کو ہوئی تھی۔موسیقی کے جنون نے انہیں تعلیم مکمل کرنے نہیں دی۔ اپنا کیریر انہوں نے آل انڈیا ریڈیو جالندھر سے شروع کیا۔ فلموں میں پہلے انہوں نے پس منظر موسیقی دی اور اس کا موقع انہیں ’کنیز‘ فلم سے ملا۔ لیکن جب انہوں نے فلموں میں موسیقی دینی شروع کی تو لوگوں کو مسحور کر دیا۔ گرودت کی فلم ’ آرپار‘ سے لوگوں نے انہیں پہچانا۔ اس فلم کے نغمے بہت مقبول ہوئے۔ فلم ’تم سا نہیں دیکھا‘، ’ہاوڑا برج‘، ’مسٹر اینڈ مسز 55‘ ، ’کشمیر کی کلی‘، ’میرے صنم‘، ’سونے کی چڑیا‘، ’پھاگن‘، ’باز‘، ’ایک مسافر ایک حسینہ‘ ان کی چند فلمیں تھیں جن کے نغمے جاوداں بن گئے۔ اس کے بعد تو ان کے پاس فلموں کی لائن لگی لیکن وہ ایک سال میں ایک ہی فلم کے لیے موسیقی دیتے تھے۔ کام کے تئیں اس لگن کی وجہ تھی کہ آج بھی ان کے نغمے لوگ گنگاتے ہیں۔ مسٹر نیر نے لتا منگیشکر سے کبھی کوئی گیت نہیں گوایا تھا۔ اسی لیے آشا بھوسلے اور گیتا دت کو وہ گیت ملے جو ان کی اپنی زندگی کے یادگار نغمے بنے۔ مرحوم گلوکار محمد رفیع نیر صاحب کے چہیتے تھے۔ انہوں نے اپنے زیادہ نغمے رفیع سے ہی گوائے۔ حالانکہ انہوں نے مکیش اور مہیندر کپور کو بھی موقع دیا۔ ’نیا دور‘ ان کی وہ فلم تھی جس میں موسیقی دینے کے لیے انہیں انیس سو ستاون میں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ | اسی بارے میں کننڑ فلموں کے راج کمار نہیں رہے12 April, 2006 | فن فنکار استاد بسم اللہ خان انتقال کرگئے21 August, 2006 | فن فنکار رِشی کیش مُکھرجی نہیں رہے 27 August, 2006 | فن فنکار اداکارہ پدمنی انتقال کر گئیں25 September, 2006 | فن فنکار فلمساز این این سپی انتقال کرگئے07 November, 2006 | فن فنکار اب بروس لی کی یاد میں پارک27 November, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||