BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 February, 2007, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آہو چشم راگنی چل بسیں

راگنی
راگنی اور رام لال فلم ’سہتی مراد‘ میں
26 مارچ 1941 کے دِن لاہور کے کراؤن سینما پہ غیر معمولی بھیڑ تھی۔ سینما کی عمارت پر نشیلی آنکھوں والی ایک نئی ہیروئن کی تصویر آویزاں تھی، لڑکی کا نام تھا راگنی اور فلم تھی دُلا بھٹی۔ اِس فلم میں سترہ گیت تھے جِن میں سے کئی فلم کی ریلیز سے پہلے ہی مقبول ہوچکے تھے۔

بڑی بڑی آنکھوں والی راگنی کو متعارف کرانے کا سہرا ہدایتکار روپ۔ کے۔ شوری کے سر تھا جِن کے ہمسائے میں گوجرانوالا سے ایک فیملی آکر آباد ہوئی تھی۔ ہدایتکار کی جوہر شناس نگاہ اِس گھرانے کی ایک لڑکی پہ ٹِک گئی اور مسٹر شوری نے لڑکی کے باپ سے اس کے سکرین ٹیسٹ کی اجازت چاہی۔ نتیجہ شاندار نکلا اور لڑکی کو ’راگنی‘ کا فلمی نام دے کر نئی فلم دُلا بھٹی میں کاسٹ کر لیا گیا۔ فلم کے ہیرو لاہور کے ایک بہت شوقین مزاج امیر زادے ایم۔ ڈی۔ کنور تھے جِن کا انارکلی میں بہت بڑا کاروبار تھا لیکن چہرے پر ایک بار چُونا لگوانے کے بعد انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ اب اُن کی زندگی فلم ایکٹنگ کے کاروبار سے باہر نہیں جاسکتی۔

فلم شاہ جہان سے انارکلی تک
 قبل از تقسیم کے ہندوستان کی معروف فلمی ہیروئن اور پاکستان کی ابتدائی فلموں میں کریکٹر رول ادا کرنے والی اداکارا راگنی کا 27 فروری کو لاہور کے ایک ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے اپنی اولاد پر بوجھ بننے کی بجائے لاہور کے ایک محلّے میں تنہائی اور سادگی کی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔ متحدہ ہندوستان کی فلم شاہ جہان سے لے کر پاکستانی فلم انارکلی تک انہوں نے یادگار کردار ادا کئے اور بعد میں پاکستان کی کچھ پنجابی فلموں میں بھی کام کیا

کنور صاحب ایک خوبصورت جسم اور دلکش چہرے کے مالک تھے۔ فلم دُلا بھٹی میں انھوں نے گُھڑ سواری سے لیکر تیراکی تک سارے کمالات دِکھائے اور غلیل سے لے کر تلوار اور خنجر تک تمام ہتھیار بھی آزمائے۔

فلم کا مقبول ترین گیت وہ تھا جِس میں راگنی اُن کی غُلیل سے کھیلتی ہے اور اسے والہانہ پیار کرتے ہوئے گاتی ہے:

’بول بول نی گُلیلے میرے چن دِیئے‘

یہ گیت شروع ہوتے ہی ہال میں موجود زندہ دلانِ لاہور مستی میں جھومنے لگتے۔ کئی لوگوں نے راگنی پر فلمائے ہوئے اس گیت کی خاطر بار بار یہ فلم دیکھی۔ راگنی پر فلم بند ہونے والے دیگر گیتوں میں یہ دو گیت بھی خاصے مقبول ہوئے :

’رب دی جناب وِچوں ایہو دِل منگدا‘
اور
’آکھے نہ لگدی انّھی جوانی‘

راگنی اور کنور فلم ’دُلّا بھٹی‘ میں

لیکن سب سے زیادہ مقبولیت غالباً اِس المیہ گیت کو حاصل ہوئی:
کیوں تِیر کلیجے لگدے نیں
اکھیاں وِچوں اتھرو وگدے نیں
ہوٹھاں اُتے رہندی ’سی‘ اڑیو
ایس روگ دا ناں ہے کِی اڑیو

دُلا بھٹی کی کامیابی کے بعد کئی فلم سازوں نے راگنی کو کاسٹ کرنا چاہا لیکن اپنے والد کے مشورے سے راگنی نے فلم ’ہمت‘ میں کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فلم کے ہدایتکار بھی آر۔ کے۔ شوری تھے، موسیقی ماسٹر گوبند رام کی تھی اور مکالمے عزیز کاشمیری نے لکھے تھے۔ فلم کے اداکاروں میں بیگ، کنور، منورما، ظہور شاہ، کملا اور مجنوں کے علاوہ لاہور کے مشہور ترین ایکٹر ماسٹر غلام قادر بھی شامل تھے۔

’ہمت‘ کی شاندار کامیابی کے بعد راگنی نے فلم ’سہتی مُراد‘ میں مرکزی کردار ادا کیا۔ پنجاب کی اِس لوک کتھا کو منوہر سنگھ صحرائی نے فلم سکرپٹ کی شکل دی تھی اور گیت عزیز کاشمیری اور ولی نے لکھے تھے۔ فلم کی موسیقی اُس وقت کے معروف ترین فلمی موسیقار غلام حیدر نے ترتیب دی تھی اور پلے بیک گلوکاری کےلئے امراؤ ضیا بیگم اور شمشاد بیگم کی خدمات حاصل کی گئ تھیں۔ راگنی پر فلمایا ہوا ، شمشاد کا یہ گیت انتہائی مقبول ہوا:
اُچّی ماڑی تے دُدھ پئی رِڑکاں
مینوں سارے ٹبّر دیاں جھِڑکاں

راگنی اور کرن دیوان فلم ’میرا ماہی‘ میں

راگنی کے مقابل اس فلم میں مراد کا کردار رام لال نے ادا کیا تھا۔ دیگر فنکاروں میں لاہور کے معروف اداکار ظہور شاہ ، گُل زمان اور خواتین میں منورما، رضیہ اور کملا شامل تھیں۔

راگنی کی تیسری کامیاب فلم ’میرا ماہی‘ تھی۔ یہ بھی 1941 میں بنی اور اس میں راگنی کے مقابل کرن دیوان کو لیا گیا۔ اس فلم کی کہانی بی۔ آر چوپڑا اور ایم ۔آر۔ کپور نے مِل کےلکھی تھی اور مکالمے لکھوانے کےلئے لاہور کے ایک مصنف ایم ۔ سروری کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ بی۔ آر۔ حوپڑا کی طرح ہیرو کرن دیوان بھی ایک فلم جرنلسٹ تھے اور لاہور سے ایک رسالہ ’جگت لکشمی‘ نکالتے تھے۔

راگنی کے ساتھ ’میراماہی‘ میں کرن دیوان کی آمد ایک نیک فال ثابت ہوئی اور اس فلم کی کامیابی کے بعد انھیں بمبئی بُلالیا گیا جہاں انھوں نے بےشمار فلموں میں کام کیا۔ راگنی کو بھی یہ پیشکس ہوئی لیکن انھوں نے والد کے مشورے پہ لاہور چھوڑنے سے انکار کردیا۔ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ یہ فیصلہ غلط نہیں تھا کیونکہ 1942 کے بعد راگنی کو پونجی، پٹواری، داسی، من مانی، دھمکی، کیسے کہوں اور بِندیا جیسی فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا جہاں اُن کےمقابل ایم اسماعیل، اوم پرکاش، الناصر، نجم الحسن اور غلام محمد جیسے منجھے ہوئے اداکار کام کر رہے تھے۔

1946 میں راگنی کو ایک نئے ہیرو کے ساتھ کاسٹ کیا گیا۔ فلم کا نام تھا ’فرض‘ اور ہیرو تھا سدھیر جو بعد میں پاکستانی فلموں کا جنگجو ہیرو کہلایا۔

راگنی کی شہرت اب پنجاب سے نکل کر کلکتہ اور بمبئی تک پھیل چُکی تھی اور والد کا نیا مشورہ یہ تھا کہ اب بمبئی جانے کا مناسب وقت آگیا ہے، چنانچہ ایک بھاری معاوضے کے عوض راگنی نے فلم شاہ جہان میں سہگل کے مقابل مرکزی کردار قبول کر لیا۔

راگنی اور سدھیر فلم ’فرض‘ میں

ہدایتکار اے۔ آر کاردار کی اس فلم کے مصنف تھے کمال امروہی اور کہانی یہ تھی کہ شاہ جہان کی رعایا کا ایک باشندہ فریاد لے کر آتا ہے کہ میری بیٹی روحی اس قدر حسین ہے کہ اُس سے شادی کرنے کے خواہش مند نوجوان ایک دوسرے کو قتل کر رہے ہیں۔

فریادی نے بادشاہ سے درخواست کی کہ قتل و غارت کا یہ سلسلہ کسی طرح رکوایا جائے۔ بادشاہ نے فیصلہ کیا کہ روحی کو محل میں بلا کر شاہی مہمان کے طور پر ٹھہرایا جائے اور خود اُس کے لئے ایک مناسب رشتہ تلاش کیا جائے لیکن جب روحی (راگنی) محل میں آکر رہنے لگتی ہے تو محلاتی سازشوں کا ایک ایسا جال بُنا جاتا ہے جس کی جکڑ میں خود بادشاہ بھی آ جاتا ہے۔

راگنی کے حسن و جمال، سہگل کی آواز اور نوشاد کی موسیقی نے ایسا جادو جگایا کہ ہر جانب فلم شاہ جہان کا ڈنکا بجنے لگا۔ راگنی نے اس فلم کا معاوضہ پچاس ہزار لیا تھا۔ آج سے ساٹھ برس پہلے اس رقم میں پوری فلم پروڈیوس ہوجاتی تھی لیکن اس شاندار کامیابی کے بعد جب ہدایتکار اے۔ آر۔ کاردار اپنی اگلی فلم کے لئے راگنی کے پاس گئے تو اُس نے ایک لاکھ روپے کا مطالبہ کردیا۔ کاردار نے یاد دلایا کہ میں نے تمہیں پنجاب کے محدود سرکٹ سے نکال کر سارے ہندوستان میں متعارف کرایا ہے اور پہلے ہی تمہیں سب سے زیادہ معاوضہ دے رہا ہوں، اب اسے دوگنا تو مت کرو۔ اس پر راگنی کے والد نے جواب دیا ’آپ بزنس کر رہے ہیں کاردار صاحب، آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ جب کسی چیز کی مانگ بڑھتی ہے تو اُس کی قیمت میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔‘

راگنی کے آخری ایام گوشہء تنہائی میں گزرے

متحدہ ہندوستان میں شاہ جہان راگنی کی آخری فلم ثابت ہوئی لیکن قیامِ پاکستان کے بعد بھی آہو چشم راگنی نے فلموں میں کام جاری رکھا اور گمنام، مندری، بے قرار، کندن، غلام، شرارے، نوکر، انارکلی، زنجیر، صاعقہ اور نائلہ اُن کی معروف پاکستانی فلموں میں شمار ہوتی ہیں۔ انہوں نے بہت سی پنجابی فلموں میں بھی کریکٹر رول ادا کیئے جن میں شیر دی بچّی اور شیراں دی جوڑی زیادہ معروف فلمیں ہیں، لیکن پاکستان میں اُنکی یادگار فلم انارکلی ہے جس میں انھوں نے دِل آرام کا کردار ادا کیا تھا۔ ہدایتکار انور کمال نے اس فلم کو امتیاز علی تاج کے اصل ڈرامے کے بہت قریب رکھا تھا اور کہانی یا کرداروں کے ساتھ اُس طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی تھی جو بعد میں مغلِ اعظم کے ڈائریکٹر کے۔ آصف نے روا رکھی۔ اصل ڈرامے میں کہانی کی ویمپ دل آرام کا کردار انتہائی مضبوط اور قابلِ ہمدردی ہے۔ دِل آرام کا کہنا ہے کہ اگر انارکلی نام کی ایک کنیز شہزادہ سلیم سے پیار کر سکتی ہے تو دِل آرام نام کی ایک اور کنیز کو یہ حق حاصل کیوں نہیں۔

راگنی کی اداکاری نے دِل آرام کے کردار کو لا فانی بنا دیا ہے اور اگرچہ انارکلی کی کہانی مستقبل میں شاید ہزاروں بار فلمائی جائے گی لیکن انور کمال کی انارکلی میں راگنی کا کردار امر ہو چکا ہے۔

لالی وڈلائٹس آف اور فاقے
لالی وڈ میں سٹوڈیو بند، بیروزگاری کا دور دورہ
سنتوشساٹھ کی فلمی دہائی
’بُدھو لڑکا اور ذہین لڑکی‘ سپر ہٹ فلم
بابرہ شریفاور پھرٹی وی آگیا!
پی ٹی وی کی آمد سے فلم نگری پر کیا اثر پڑا؟
سورن لتالالی وڈ: کل اور آج
1947 سے 1950 تک لالی وڈ کا بحرانی دور تھا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد