چترال: تودوں سے 42 ہلاکتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دورافتادہ پہاڑی ضلع چترال میں برفانی تودے گرنے اور سیلابی ریلوں نے کافی بڑے علاقے میں تباہی مچائی ہے۔ زمینی راستے کٹے ہوئے ہیں، ٹیلیفون پہلے ہی کم کم تھا اور بجلی کو آنکھ مچولی کھیلنے سے فرصت نہیں۔ ایسے میں دور دراز علاقوں میں گزشتہ کئی روز کی شدید برف باری اور بارشوں نے کتنی تباہی مچائی یہ ابھی کہنا حکام کے لیے بھی مشکل ہے۔ تاہم جن ہلاکتوں کی اب تک تصدیق ہوچکی ہے وہ بیالیس ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد میں ہلاکتیں یعنی سینتیس چترال کے شمال مشرق میں تحصیل تور کہو میں واشچ کے گاؤں میں ہوئیں ہیں۔ چار نالوں کے اردگرد تنگ وادیوں میں آباد اس گاؤں کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے لاشیں نکالیں اور دفنائیں۔ ہمارے پہنچنے تک اس گاؤں کے قبرستان میں سینتیس نئی قبروں کا اضافہ ہوچکا تھا۔ حکام کے مطابق گرم چشمہ دوسرا بڑا متاثرہ علاقہ ہے۔ وہاں ایک مقام پر پانچ ہلاکتیں ہوئی جبکہ مومی کے مقام پر گیارہ افراد ابھی بھی لاپتہ ہیں۔ چترال کے قریب دنین علاقے میں چالیس مکانات سیلابی ریلے کی نظر ہوئے جب کہ افغان سرحد کے قریب گبور اور حسین آباد، شغور میں بھی سات سات مکانات کے مکمل تباہ ہونے کی خبریں ہیں۔
امدادی کارکنوں کے پاس جو تازہ اطلاعات آ رہی ہیں ان کے مطابق یہ نقصان صرف انسانی جانوں یا مکانات کا نہیں بلکہ ان لوگوں کے مال مویشی اور اشیاء خوردو نوش کے ذخیرے بھی برباد ہوئے ہیں۔ چترال کے ناظم سید مغفرت شاہ کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی تمام علاقوں سے اطلاعات تو ملی ہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں پولیس یا نیم فوجی ملیشیا چترال سکاوٹس کی چوکیاں ہیں صرف وہیں سے وائرلس پر اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے نوجوان ضلع ناظم کا کہنا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ تباہی زیادہ ہوئی ہے۔ ’ہم تو ابھی اس حالت میں بھی نہیں کہ اندازہ لگا سکیں‘۔ اس موقع پر چترال سے جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ امدادی سرگرمیوں میں پیش پیش انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا ایک جانب تو اب تک کی مدد کا شکریہ ادا کیا تو دوسری جانب ان سے بیس کڑوڑ روپے کی مزید امداد کا تقاضہ بھی کیا۔ چترال شہر کا تمام دیگر علاقوں بلکہ صوبے سے ہی زمینی رابطہ کٹا ہوا ہے۔ لڑھک کر شہر کے اندر سڑکوں پر آنے والے بڑے بڑے پتھر اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ بارشوں نے اسے کتنی بری طرح متاثر کیا ہے۔
چترال کا ہوائی اڈہ اس وقت امدادی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بن چکا ہے۔ سرکاری اور غیرسرکاری تنظیموں کے اہلکار یہاں سے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ لیکن وہاں موجود رش میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے رشتہ دار واشچ جیسی جگہوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور وہ نہ تو ان سے نہ تو فون سے رابطہ کر سکتے ہیں اور نہ سڑک سے۔ ان کی واحد امید یہ ایم آئی سترہ ہیلی کاپٹر ہیں۔ وہ سرکاری اہلکاروں سے انہیں وہاں لے جانے کے لیے الجھ رہے ہیں۔ لیکن سرکاری افسروں کا کہنا ہے کہ ابھی ان کی ترجیع امدادی سامان پہنچانا ہے۔ لیکن ہیلی کاپٹر بھی شدید برف کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں نہیں اتر پا رہے۔ دوسری جانب انہیں فیول کی کمی کا بھی مسئلہ درپیش ہے۔ وہ اپنا تیل پشاور سے لا رہے ہیں لیکن متاثرہ علاقوں تک پہنچنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ تیل کی ضرورت ہے۔ ہیلی کاپٹر سے واشچ جاتے ہوئے دیکھا کہ تمام سڑکیں برف سے ڈھکی ہوئی ہیں جنہیں صاف کرنے میں اگر مہینے نہیں تو کئی ہفتے ضرور لگ سکتے ہیں۔ تمام علاقے نے سفید چارد اوڑھی ہوئی ہے۔ مکانات کی چھتوں پر لوگ خصوصا بچے دکھائی دیتے ہیں۔ واشچ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ نہ صرف اس مرتبہ برف باری کا وقت غیر متوقع تھا بلکہ اس کی مقدار بھی۔ اتنی برف کہ چلنا محال ہے۔ ایک برف پوش پہاڑ سے سامنے دوسرے سفید پہاڑ پر لوگوں کو باآسانی دیکھا جاسکتا ہے۔
واشچ میں مختصر دورے کے بعد واپسی پر ایک زخمی حاجی داد بھی شامل سفر ہوا۔اگرچہ اس کی ناک زخمی تھی، بازو ٹوٹ چکے تھے اور کمر و پیٹ میں درد تھا لیکن اس نے بتایا کہ وہ دیگر اہل خانہ کے ساتھ سو رہا تھا کہ آدھی رات اسے زلزلہ سا محسوس ہوا۔ ’میں نے اٹھ کر دروازے کی جانب بھاگا لیکن اس سے قبل تمام چھت اس پر آگری۔ میں پھنس کر گر پڑا اور بارہ گھنٹے تک وہیں پڑا رہا‘۔ اس کے خاندان کے چاروں رکن مارے گئے۔ ایک غیرسرکاری تنظیم کے ڈاکٹر اسے علاج کے لیے چترال لے آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ امدادی سرگرمیوں میں اضافے اور متاثرہ علاقوں سے رابطوں کی بحال کے بعد ہی نقصانات کی اصل صورت سامنے آسکے گی۔ تاہم مقامی اراکین اسمبلی غیرسکاری تنظیموں سے امداد کی اپیل کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں چترال میں دس مزید ہلاکتیں02 April, 2007 | پاکستان ’اسامہ چترال میں موجود نہیں‘22 December, 2006 | پاکستان ’چترال والوں کی قید ختم ہونے کو ہے‘11 July, 2006 | پاکستان شندور پولو: چترال کی جیت09 July, 2006 | پاکستان پاکستان کے پہاڑوں میں فیشن کا مرکز28 May, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||