BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 08:17 GMT 13:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چترال میں دس مزید ہلاکتیں

چترال
تودے گرنے کی وجہ سے چترال کی تقریباً تمام سڑکیں بند ہیں
پاکستان میں صوبہ سرحد کے شمالی ضلع چترال میں برفانی تودہ گرنے کے ایک اور واقعہ میں دس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے، اس طرح پچھلے چوبیس گھنٹوں میں برفانی تودوں کی زد میں آ کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 42 ہو گئی ہے۔

چترال میں ایک غیر سرکاری تنظیم ’ فوکس‘ کے ریجنل پروگرام مینجر ہرئیر شاہ نے بتایا کہ تازہ واقعہ گرم چشمہ سے بیس کلومیٹر دور مومی نامی گاؤں میں اتوار کی رات پیش آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک بڑا برفانی تودہ رات کے اندھیرے میں مقامی آبادی پر گرا جس کے نیچے بارہ افراد دب گئے، جن میں سے اب تک صرف دو افراد کو ہی بچایا جا سکا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کو تودے کے نیچے دبے ہوئے بارہ گھنٹوں سے زیادہ ہوگئے ہیں اور اب غالب امکان یہی ہے کہ وہ تمام کے تمام ہلاک ہوچکے ہوں گے۔

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
 لاپتہ افراد کو تودے کے نیچے دبے ہوئے بارہ گھنٹوں سے زیادہ ہوگئے ہیں اور اب غالب امکان یہی ہے کہ وہ تمام کے تمام ہلاک ہوچکے ہونگے
پولیس

چترال کے سپرنٹنڈنٹ پولیس اعجاز احمد کا کہنا ہے کہ لاپتہ افراد کی لاشیں نکالنے کے لیے پولیس اور مقامی لوگ آپس میں مل کر کام کر رہے ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل چترال کے علاقوں واشچ اور گرم چشمہ میں برفانی تودے گرنے کے دو مختلف واقعات میں 29 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تودے گرنے کی وجہ سے چترال کی تقریباً تمام سڑکیں بند ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں اشیائے خوردنی کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اشیائے خورد و نوش کی قلت کے پیش نظر پاکستان ایئر فورس کا ایک 130-Cطیارہ امدادی سامان لے کر پیر کو پشاور سے چترال پہنچا ہے۔ ہمارے نامہ نگار ہارون رشید بھی اسی طیارے میں سوار تھے۔

ہارون رشید کے مطابق لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کی وجہ سے امدادی سامان کو زمینی راستوں کے ذریعے متاثرہ علاقوں تک پہنچانا نا ممکن ہے اور یہ

پولیس اور مقامی لوگ مل کر امدادی سرگرمیوں میں بھی حصہ لے رہے ہیں
مرحلہ آج کسی وقت ہیلی کاپٹروں کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

نامہ نگار نے چترال کے ضلعی رابطہ افسر کامران رحمنٰ کے حوالے سے بتایا کہ اب تک ہونے والی 42 ہلاکتوں کے علاوہ تقریباً 21 افراد لاپتہ ہیں۔ ضلعی رابطہ افسر کا کہنا تھا کہ چترال کے قریب سیلابی ریلے کی زد میں آ کر 40 کے قریب مکانات تباہ ہوگئے ہیں۔

سرحد کی صوبائی حکومت نے برفانی تودوں کی زد میں آ کر ہلاک ہونے ہر شخص کے عوض ان کے اہل خانہ کو ایک لاکھ روپیہ امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد