چھ لاشیں برآمد، اکیس ملبے تلے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں فوج کا کہنا ہے کہ وادی جہلم میں لائن آف کنڑول کے قریب گرنے والے تودے کے نیچے سے اب تک چھ لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔ مظفر آباد کے علاقے وادی جہلم میں لائن آف کنڑول کے قریب ایک گاؤں چھم ڈوبا سیداں میں منگل کو نصف درجن گھر تودے کے زد میں آ گئے تھے اور درجنوں افراد ملبے کے نیچے دب گئے تھے۔ سولہ افراد کو منگل کے روز زندہ بچا لیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے محکمۂ تعلقات عامہ کے ترجمان میجر فاروق کا کہنا ہے کہ فوجی جوانوں نے ملبے میں دبے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے بدھ کی صبح امدادی کام شروع کیا اور دوپہر تک ملبے کے نیچے سے صرف چار لاشیں نکالی جا سکی ہیں جبکہ دو افراد کی لاشیں منگل کو ہی نکال لی گئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اکیس افراد اب بھی ملبے کے نیچے ہیں اور ان کو نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
میجر فاروق کے مطابق زخمی افراد کو طبّی امداد فراہم کرنے کے لیے فوج کی ایک میڈیکل ٹیم بھی وہاں پہنچ چکی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں کے لیے خوراک ، کمبل اور خیمے بھی پہنچا دیےگئے ہیں تاہم بارشوں اور برف باری کے باعث امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ میجر فاروق نے کہا کہ متاثرہ علاقے سے شدید زخمیوں کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپڑ تیار ہے لیکن موسم کی خرابی کی وجہ سے ہیلی کاپڑ وہاں نہیں جا سکتا ہے۔ ابتداء میں مقامی لوگوں نے اپنے طور پر ہی لوگوں کو ملبے سے نکالنے کا کام شروع کیا تھا اور فوج اور پولیس بدھ کو متاثرہ علاقے میں پہنچی اور لوگوں کو ملبے سے نکالنے کا کام شروع کیا۔ حکام امدادی کام تاخیر سے شروع کرنے کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ علاقہ درور دراز ہونے کے ساتھ ساتھ دشوارگزار بھی ہے اور وہاں جانے والی سڑک بھی بارشوں کی وجہ سے بند ہے جبکہ علاقے میں ٹیلیفون کی سہولت بھی نہیں ہے۔ واضح رہے منگل کو ضلع باغ میں بھی تودہ گرنے کے باعث دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ادھر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے زلزلے سے متاثرہ دارالحکومت مظفرآباد کے نواح میں دو درجن سے زائدگھر تودوں کے زد میں آ کر تباہ ہوگئے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ ان کے مکین پہلے ہی اپنے گھر چھوڑ کر محقوظ علاقوں میں جا چکے تھے۔ اس علاقے میں زمین مسلسل سرک رہی ہےاور مظفرآباد کے اسسٹنٹ کمشنر مسعود الرحمان کا کہنا ہے یہاں ڈھائی درجن اور ایسےگھر ہیں جن کو فوری خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام نے کسی ممکنہ خطرے کی پیش نظر ہی یہ گھر خالی کروائے ہیں اور ان گھروں کے مکین بھی قریب ہی محفوظ علاقوں میں رہنے والے رشتہ داروں اور عزیزوں کے گھر منتقل ہو گئے ہیں ۔ اسسٹنٹ کمشنر نے کہا کہ یہ لوگ اپنے مرضی سے اپنے رشتہ داروں کے گھر منتقل ہوئے ہیں اور انھوں نے نے فی الوقت کسی خیمہ بستی میں رہنے پر رضا مند نہیں ہیں۔ تاہم ان لوگوں کے لیے ایک خیمہ بستی بھی قائم کی گئی ہے اور اگر یہ چاہیں تو اس خیمہ بستی میں منتقل ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں سرحد، کشمیر: بارشیں، بیس ہلاک20 March, 2007 | پاکستان برف کا تودہ گرنے سےدس فوجی ہلاک02 March, 2007 | پاکستان پہاڑی تودے تلے دب کر تیرہ ہلاک24 February, 2007 | پاکستان کوٹلی: تودہ گرنے سے چودہ ہلاک06 January, 2007 | پاکستان برساتی نالے میں طغیانی، سترہ ہلاک04 July, 2006 | پاکستان تودہ گرنے سے بارہ ہلاک، دس لاپتہ03 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||