’چترال والوں کی قید ختم ہونے کو ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین، وسطی ایشیا، افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود چترال کا ضلع وہ پیالہ ہے جہاں کے ساڑھے تین لاکھ باسیوں کو دس دس ہزار فٹ سے بلند پہاڑوں نے چاروں طرف سے محصور کر رکھا ہے اور دسمبر سے مارچ تک جو بھی شخص اس پیالے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے وہ وصیت چھوڑ کر روانہ ہوتا ہے۔ کہنے کو اہلِ چترال درہ شندور کے راستے گلگت بھی جاسکتے ہیں لیکن وہ گِلگت جا کر کیا کریں گے؟ وہ چاہیں تو سردیوں میں ارندو کے راستے افغان صوبہ کنڑ کی آٹھ کِلومیٹر لمبی پٹی استعمال کر کے دوبارہ پاکستان کی قبائیلی ایجنسی باجوڑ میں داخل ہوکر پشاور جا سکتے ہیں مگر اس راستے میں افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی سختیاں، لوٹ مار کے واقعات اور افغان ڈرائیوروں کی بدتمیزیاں اور من مانے کرائے ٹھنڈے مزاج چترالیوں کے حوصلے بھی سرد کر دیتی ہیں۔ لے دے کے ایک فضائی راستہ باقی رہ جاتا ہے۔ کہنے کو پشاور سے چترال روزانہ فوکر پرواز ہے۔ لیکن چترال کے تحصیل ناظم سرتاج احمد خان کے بقول امریکہ کا ویزا ملنا آسان ہے مگر چترال پشاور پرواز میں سیٹ ملنا مشکل ہے۔ ایک ایک مہینے تک کی سیٹیں بک ہوتی ہیں اور موسم کی خرابی یا بادلوں کے سبب پروازیں اکثر منسوخ ہونے سے سردیوں میں یہ معاملہ مزید سنگین صورت اختیار کر لیتا ہے جب چترال اور بیرونی دنیا کا رابطہ صرف فضا کے ذریعے برقرار ہوتا ہے۔
چنانچہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی چترالی اپنے علاقے سے باہر اللہ کو پیارا ہوگیا تو اسکی لاش امانتاً پشاور میں دفن کردی گئی یا پھر کسی کا باپ یا بیٹا چترال میں فوت ہوگیا تو وہ چترال پہنچنے کے بجائے پشاور میں پی آئی اے کے دفتر کے سامنے فاتحہ پڑھ کے صبر کرکے بیٹھ گیا۔ سب سے زیادہ مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب سردیوں میں اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی اور نایابی کے ساتھ ساتھ دواؤں کی بھی شدید قلت ہوجاتی ہے یا کسی مریض کو ہنگامی طور پر پشاور یا اسلام آباد منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر سال کئی مریض اسی بے چارگی میں جان دے دیتے ہیں۔ چنانچہ ضرورت مند لوگ تنگ آمد بجنگ آمد اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دس ہزار فٹ سے زائد لواری ٹاپ کو منفی ٹمپریچر، سفاک ہواؤں اور برفانی طوفان کا خطرہ مول لے کر عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان میں سے آٹھ دس لواری ٹاپ تک پہنچنے کے لیئے باون خطرناک پہاڑی موڑ کاٹتے کاٹتےگم ہوجاتے ہیں۔ جان خطرے میں ڈالنے والوں میں مزدور، چھٹیوں پر گھر آئے سرکاری ملازم، طلبا اور مقدمات میں الجھے ہوئے لوگ شامل ہیں۔ پچھلے پچاس برس میں ہر حکمران نے اہلِ چترال کو ایک ایسی سرنگ بنانے کے خواب دکھائے ہیں جو اس خطے کو سال کے بارہ ماہ باقی پاکستان سے جوڑ دے۔ پہلی دفعہ یہ خواب انیس سو چھپن میں دکھایا گیا جب پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے لواری سرنگ کی تعمیر کے لیئے ایک قابلِ عمل رپورٹ تیار کی۔اس کے گیارہ برس بعد انیس سو سڑسٹھ میں واپڈا نے بھی اسی طرح کی ایک رپورٹ بنا ڈالی اور اسکے پانچ برس بعد فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن نے بھی ایک فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جس کی روشنی میں لواری ٹنل آرگنائزیشن قائم ہوئی اور اس کے تحت انیس سو پچھتر میں سرنگ کی کھدائی کا کام شروع ہوا۔ انیس سو ستتر تک ساڑھے چار سو میٹر پہاڑ کھود لیا گیا تو اچانک وسائل کی کمی، سیاسی بے چینی اور پھر مارشل لا کے نفاذ نے لواری سرنگ کے دہانے پر سلاخیں لگوادیں۔
میں نے لواری سرنگ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عبدالصمد سے پوچھا کہ سرنگ سے سڑک کے بجائے ریل گزارنے کے پیچھے کیا فلسفہ ہے۔کہنے لگے کہ اگر ہم سرنگ میں دورویہ سڑک بناتے تو دوگنی چوڑی سرنگ کھودنا پڑتی اور اس طرح منصوبے کی لاگت پچیس ارب روپے تک پہنچ جاتی۔لیکن ریل والی سرنگ کوئی دس ارب میں بن جائے گی اور اس کی دیکھ بھال بھی نہ صرف آسان ہوگی بلکہ سڑک والی سرنگ کے مقابلے میں حادثات کا امکان بھی نصف سے کم رہ جائے گا۔ٹرین بجلی سے چلےگی اس لیئے ماحولیات پر بھی زیادہ برا اثر نہیں پڑے گا۔ مجھے سرنگ کے اندر تعمیراتی کام دیکھنے کا بھی موقع ملا۔دو بڑی بڑی مشینیں کمپیوٹرائزڈ احکامات پر لیزر بیم سے نشان زدہ پتھروں کو کاٹ کر آگے کا راستہ بنا رہی تھیں۔ پچھلے نو ماہ کے دوران پہاڑ کے صرف ایک جانب سے کام ہورہا ہے لیکن گزشتہ ہفتے سے چترال کی طرف سے بھی کھدائی شروع ہو چکی ہے۔ پروجیکٹ ڈائریکٹر عبدالصمد کا کہنا تھا کہ یہ سرنگ دوہزار آٹھ کے اختتام تک مکمل ہوجائے گی۔
نہ جانے چترال کے ایک سرکردہ مورخ اور ماہر لسانیات عنایت اللہ فیضی کو سرنگ کی اس بار تکمیل کا اس قدر یقین کیوں ہے؟ ان کی دلیل یہ ہے کہ اب تک سرنگ اس لیئے معلق تھی کیونکہ یہ صرف اہلِ چترال کی ضرورت تھی۔لیکن اب اس کامکمل ہونا اس لیئے یقینی ہے کہ وسطی ایشیا کی آزاد ریاستوں کو اپنی معدنیات، زرعی اور صنعتی مصنوعات کو لانے لیجانے کے لیئے ایک سے زیادہ راستوں کی ضرورت ہے۔ یہ ریاستیں افغانستان کی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر محض درہ سالانگ کے راستے پر تکیہ نہیں کر سکتیں۔ جبکہ شاہراہ ریشم پاکستان سے چین کو جاتی ہوئی وسطِ ایشیا کی سابق سوویت ریاستوں سے دور پڑتی ہے۔ لیکن چترال سے تاجکستان تک مختصر راستہ بن سکتا ہے۔ اس راستے سے سفر کا خرچہ بھی کم پڑے گا اور افغانستان کے کم سے کم علاقے سے گزرنا پڑے گا۔ شاید اسی لیئے نوّے کی دہائی میں یو ایس ایڈ کے ماہرین دورا کے راستے کی ایک قابلِ عمل رپورٹ بنانے کے علاوہ بروغل کے راستے کی ابتدائی سروے رپورٹ بھی بنا چکے ہیں۔ عنایت اللہ فیضی کے بقول لواری سرنگ مارکیٹ فورسز کے دباؤ کے تحت بنائی جارہی ہے ورنہ چترال کے مٹھی بھر غریبوں کے لیئے دس ارب روپے کون خرچ کرتا ہے۔ لیکن وجہ کچھ بھی ہو اس سرنگ سے چترالیوں کو نہ صرف ہر سال چھ ماہ کی سرد جیل سے نجات ملے گی بلکہ ان کے معدنی وسائل اور پن بجلی کے وسائل کو بھی ترقی ملے گی۔ ’جب توانائی کے قحط کی شکار حکومت کو یہ معلوم ہوگا کہ چترال کے دریاؤں اور چشموں سے پانچ ہزار میگاواٹ تک بجلی بن سکتی ہے تو پھر اسے ہماری طرف مسکرا کر دیکھنا ہی پڑے گا۔‘ | اسی بارے میں برفباری: ہزاروں زندگیوں کو خطرہ 25 January, 2005 | پاکستان پاکستان کے پہاڑوں میں فیشن کا مرکز28 May, 2005 | پاکستان سرحد بارشیں، جشن شندور منسوخ01 July, 2005 | پاکستان شندور پولو: چترال کی جیت09 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||