پاکستان کے پہاڑوں میں فیشن کا مرکز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریلوی فیشن ڈیزائینر کیتھی بریڈ سن دو ہزار تین سے چترال میں کپڑے ڈیزائین کرتی ہیں اور ان کا لیبل کاروانا ہے۔ کیتھی اور ان کی سہیلی کرسٹن اینسورتھ دو بکسوں، بیرون ملک قیام اور خوبصورت لباس تیار کرنے کے ارادے کے ساتھ چترال پہنچی تھیں۔ اس وقت ان کے تیار کردہ ملبوسات آسٹریلیا، امریکہ اور برطانیہ کے دس بڑے بوتیکس میں بک رہے ہیں۔ اگلے برس وہ مشرق وسطیٰ میں بھی اپنا کام پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کیتھی کے ڈیزائین کی بنیاد پاکستان کے اس شمالی علاقے میں دستکاری کی صدیوں پرانی روایت پر ہے۔ ان پہاڑی علاقوں میں دستکاری روز مرّہ زندگی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کیتھی نے بتایا کہ یہاں لوگ گھنٹوں بیٹھ کر شادی پر دینے کے لیے تحفہ بناتے ہیں۔’ہمیں خوشی ہے کہ ہم اپنے کام کو اتنی محبت سے تیار کیے گئے نمونوں سےسجاتے ہیں‘۔ کیتھی کے لیے چترال میں چار سو خواتین کام کرتی ہیں۔ گل نساء ایک بیوہ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کاروانا کے لیے کام سے ملنے والی آمدنی سے چار بچے پال رہی ہیں۔ زلفیہ نے کہا کہ وہ اپنے آٹھ بچوں کو تعلیم دلوا رہی ہیں۔ اس کے بدلے میں کیتھی کے ڈیزائینوں کو علاقے کی دستکاری کی روایت سے فائدہ ہوتا ہے۔ ان ڈیزائینوں میں روز مرّہ زندگی کے عناصر کا اظہار ہوتا ہے۔ کیتھی نے بتایا کہ ان کا پسندیدہ نمونے کا ڈیزائین پشاور کے قصہ خوانی بازار کے مناظر پر مبنی ہے۔ ان مناظر میں بکری، پھلوں سے لدا ہوا گدھا، ٹیلی فون کے کھمبے اور پرندے شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر ڈیزائین میں مسجد بھی شامل تھی لیکن کیونکہ یہ ایک سکرٹ پر بنایا جانا تھا لوگوں کے اعتراض پر اسے نکال کر ایک مغلیہ دور کی عمارت بنائی گئی۔ چترال میں رہنے کے بارے میں کیتھی نے بتایا کہ کام کے لیے بہت سی مشکلات ہیں لیکن یہاں گرمیاں بہت خوبصورت ہوتی ہیں اور لوگ زبردست ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||