BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 April, 2007, 11:04 GMT 16:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئی ایس آئی: طالبان کاافسوس اورتردید

امن جرگہ (فائل فوٹو)
طالبان نے آئی ایس آئی کے اہلکاروں کی ہلاکت کو علاقے میں امن کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں مقامی طالبان نے کچھ روز قبل علاقے میں خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے چار اہلکاروں کی نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاکت پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس واقعہ میں ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔


یہ بات باجوڑ میں مقامی طالبان کے رہنما مولوی فقیر محمد کے حامیوں نے باجوڑ امن جرگہ کے سربراہ ملک عبد العزیز سے حالیہ ملاقاتوں میں بتائی ہے۔

ملک عبد العزیز نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کی اور امن جرگہ کےممبران کی حال ہی میں مولوی فقیر محمد کے حامیوں سےملاقاتیں ہوئی ہیں جس میں انہوں نے آئی ایس آئی کی اہلکاروں کی ہلاکت سے نہ صرف لاتعلقی ظاہر کی ہے بلکہ اس واقعہ کو علاقے میں امن کےلیے جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش قرار دیا ہے۔

چھ روز قبل باجوڑ کے رشکئی علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے آئی ایس آئی کے چار اہلکاروں کو گھات لگا کر قتل کیا تھا جبکہ اس واقعہ سے ایک روز پہلے باجوڑ میں قبائل کے مابین ایک امن معاہدہ طے پایا تھا جس میں انہوں نے حکومت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایجنسی کے حدود میں غیر ملکیوں کو پناہ نہیں دی جائے گی۔ ملک عبد العزیز کے مطابق اس معاہدے کو مولوی فقیر محمد اور ان کے حامیوں کی حمایت حاصل تھی۔

غیر ملکیوں کی کارروائی ہے
 ہمارا ملک دہشت گردوں کے زد میں ہیں، روزانہ کوئی نہ کوئی واقعہ ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ہورہا ہیں ۔یہ کارروائی بھی غیر ملکی عناصر کی ہے

جرگہ سربراہ نے بتایا کہ مقامی طالبان نے انہیں یقین دلایا کہ ’اگر وہ کافر سے بھی امن معاہدہ کرتے تو بھی اسے نہ توڑتے، یہ تو پھر مومنین ہیں ہم کس طرح وعدہ خلافی کرسکتے ہیں۔ حکومت پاکستان شروع سے مولوی فقیر محمد اور ان کی حامیوں پر علاقے میں غیر ملکیوں کو پناہ دینے اور ان کی مدد کرنے کے الزامات لگاتی رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ملک عبد العزیز نے بتایا کہ تاحال کسی نے ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے جس سے ثابت ہوسکے کہ سرکاری اہلکاروں کی ہلاکت میں مقامی طالبان ملوث تھے۔

’ہمارا ملک دہشت گردوں کے زد میں ہیں، روزانہ کوئی نہ کوئی واقعہ ملک کے بڑے بڑے شہروں میں ہورہا ہیں ۔یہ کارروائی بھی غیر ملکی عناصر کی ہے‘۔

ملک عبد العزیز سے جب پوچھا گیا کہ غیر ملکی عناصر کون ہوسکتے ہیں تو انہوں نے کسی کا نام لینے سے گریز کیا۔

اسی بارے میں
ڈی جی آئی ایس آئی کو نوٹس
29 September, 2006 | پاکستان
باجوڑ میں رات کا کرفیو
08 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد