باجوڑ: قبائل اور حکومت میں معاہدہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں مقامی قبائل نے حکومت کے ساتھ ایک امن معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ اپنے علاقے میں غیرملکیوں کو پناہ فراہم نہیں کریں گے۔ باجوڑ کےصدر مقام خار کے جرگہ ہال میں منعقد ایک جرگے میں ایجنسی کی سات تحصیلوں میں آباد سلارزئی اور اتمانخیل قبیلوں کے عمائدین نے اس معاہدے پر دستخط کیے۔ باجوڑ کا ایک اور بڑا قبیلہ ماموند حکومت سے پہلے ہی اس طرح کا معاہدہ کر چکا ہے۔ پیر کو ہونے والے جرگے میں پانچ سو قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر پولیٹکل ایجنٹ باجوڑ شکیل قادر کے علاوہ باجوڑ کے دو رکن قومی اسمبلی اور سینیٹر بھی موجود تھے۔
امن معاہدے پر دستحط کرنے والے ایک قبائلی سردار ملک عبدالعزیز نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس سمجھوتے کے تحت اب غیرملکیوں کو پناہ نہیں دے سکیں گے جبکہ حکومت بھی ان کی روایات کو ملحوظ خاطر رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب حکومت اگر کسی کے خلاف کوئی کارروائی کرے گی تو پہلے اس قوم کے عمائدین کو اس بارے میں اعتماد میں لے گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس معاہدے سے ان کی ایجنسی میں حالات بہتر ہو جائیں گے۔ ’مجھے امید بلکہ یقین ہے کہ حالات پہلے بھی بہتر تھے لیکن اب مزید امن آ جائے گا‘۔ باجوڑ ایجنسی میں گزشتہ برس القاعدہ اور طالبان کے شبہہ میں امریکی اور پاکستانی فوج نے دو بڑی کارروائیاں کی تھیں۔ جنوری میں تین مکانات پر امریکی حملے میں تیرہ جبکہ اکتوبر میں ایک مدرسے پر پاکستانی حملے میں اسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں باجوڑ میں رات کا کرفیو08 March, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دھماکہ، ڈاکٹر ہلاک16 February, 2007 | پاکستان خار، دھماکے میں دو قبائلی سردار ہلاک05 February, 2007 | پاکستان باجوڑ پوسٹ پر حملہ، سپاہی زخمی 26 January, 2007 | پاکستان فوجی کارروائیاں، ہلاکتیں اور امن معاہدے24 December, 2006 | پاکستان ’پختون قوم کو بقاء کا مسئلہ ہے‘20 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||