جرگے کی کوشش سے پرنسپل رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ٹانک کے ایک اغوا شدہ پرنسپل اور ان کے بھائی سنیچر کو خیریت سے واپس اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ان کی رہائی درے محسود قوم کے جرگے کی کوششوں سے عمل میں آئی۔ جرگے کے ایک رکن اور جمیعت علمائے اسلام جنوبی وزیرستان کے سیکرٹری اطلاعات نیاز احمد قریشی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ رہائی غیرمشروط طور پر عمل میں آئی ہے۔ آکسفورڈ پبلک سکول کے پرنسپل فرید اللہ اور ان کے بھائی ہمایوں کو مسلح افراد نے دو روز قبل اغوا کیا تھا۔ ان کے اغوا کا واقعہ مذکورہ سکول میں مقامی شدت پسندوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے بعد پیش آیا تھا۔ اس جھڑپ میں مقامی شدت پسندوں کے رہنما احسان برقی اور ایک پولیس انسپکٹر مارے گئے تھے۔ شدت پسندوں نے رہائی سے قبل تاہم جرگے پر واضح کیا کہ فرید اللہ نے حکومت اور ان کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی جس کی وجہ سے ٹانک کے حالات خراب ہوئے۔ شدت پسندوں نے انہیں اپنا مجرم قرار دیا تھا تاہم جرگے کی درخواست پر وہ فرید اللہ کی غیرمشروط رہائی پر آمادہ ہوگئے۔ پرنسپل کے استقبال کے لیئے مقامی عمائدین، دوست احباب اور رکن قومی اسمبلی مولانا معراج الدین ٹانک سے باہر جمع تھے اور انہیں ایک جلوس کی شکل میں گھر لایا گیا۔ ٹانک کی انتظامیہ نے سنیچر صبح آٹھ سے بارہ بجے تک کرفیو میں نرمی کی جس دوران بازاروں میں کافی رش دیکھا گیا البتہ کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر محمد صالح شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حکومت سے کرفیو کو فورا ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے عام لوگوں کے لیئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ ان کی ہمدردیاں کسی دوسری جانب نہ ہو جائیں۔ ادھر جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں مشتعل طلبہ نے فرنٹیئر کور ملیشیا سے اپنا سکول خالی کرانے کی خاطر سنیچر کو احتجاج کرتے ہوئے تحصیل کی عمارت کو نذر آتش کر دیا ہے۔
گورنمنٹ ہائی سکول مکین کے طلبہ کی یونین کے صدر عبدالخالق مجروح نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا کہ فرنٹیئر کور ملیشیا نے گزشتہ ایک ماہ سے ان کے سکول پر قبضہ کر رکھا ہے جس سے تقریبا چار سو طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی اہلکار سکول کو اپنی رہائش کے لیئے استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے سکول بند ہے اور طلبہ پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار درخواست کے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی جس کے بعد انہوں نے احتجاج کا راستہ اپنایا ہے۔ احتجاج کے دوران مکین کا بازار اور اڈہ بند رہا جبکہ مشتعل مظاہرین نے تحصیل کی عمارت کو نذر آتش کر دیا۔ انہوں نے خاصہ داروں سے اسلحہ چھینے کا دعویٰ بھی کیا۔ طلبہ کے اس موقف کے بارے میں حکومت یا فرنٹئر کور کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ |
اسی بارے میں ٹانک: گھر گھر تلاشی ہو گی30 March, 2007 | پاکستان ٹانک میں کرفیو، حالات پرامن29 March, 2007 | پاکستان ٹانک میں گڑ بڑ، انسپکٹر ہلاک26 March, 2007 | پاکستان ٹانک: جھڑپیں، کرفیو، فوج طلب28 March, 2007 | پاکستان جرگہ بیت اللہ محسود سے ملے گا27 March, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||