مستعفی رکن قومی اسمبلی ’جیل میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے چوہدری منظور نے انکشاف کیا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہونےوالے عبدالرؤف مینگل تین ماہ سے ژوب جیل میں قید ہیں اور انہیں اپنے بچوں سے ملنے کی اجازت بھی نہیں دی جارہی ہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران نکتہ اعتراض پر چوہدری منظور نے ایوان کو بتایا کہ عبدالرؤف مینگل نے ایک خط کے ذریعے اپنے حالات سے آگاہ کیا ہے۔ عبدالرؤف مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی تھے۔گزشتہ سال اگست میں بزرگ بلوچ رہنماء اور اپنے قبیلے کے سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ میں ہلاکت کے بعد رؤف مینگل نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ چوہدری منظور نے الزام لگایا کہ ایک اور بلوچ رہنماء سردار اختر مینگل کو گرفتار کر کے کراچی میں ایک پنجرے میں رکھا گیا ہے، حالانکہ وہ ایک سابق وزیر اعلیٰ ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آج جتنے بھی وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم ہیں کل اگر انہیں بھی پنجروں میں بند کردیا جائے تو ان کی کیا حالت ہوگی۔ قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی ایم پی بھنڈارہ نے کہا کہ یہ نکتہ اعتراض نہیں بنتا بلکہ اس کی بجائے یہ معاملہ توجہ دلاؤ نوٹس کے تحت پیش کیا جائے۔
جس پر اپوزیشن نے ’شیم شیم‘ اور ’ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘ کے نعرے لگائے۔ مسلم لیگ نواز کی تہمینہ دولتانہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ عبدالرؤف مینگل کو قید تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے علاوہ جاوید ہاشمی ،حبیب جالب بلوچ اور اختر مینگل بھی سیاسی وجوہات کی بنیاد پر قید کاٹ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ مینگل ہمارے ساتھی رکن اسمبلی تھے، جنہوں نے اصولوں پر استعفیٰ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ان کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تو اپوزیشن ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے واک آؤٹ کر سکتی ہے۔ اس پر اے آر ڈی کے اراکین اسمبلی نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر جانے لگے تو قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ جمہوریت کا راستہ نہیں ہے، جس پر مسلم لیگ نواز کے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ کیا اب آپ ہمیں جمہوریت سکھائیں گے؟ اے آر ڈی کے اراکین نے کارروائی کا مختصر بائیکاٹ کیا جبکہ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے حقوق نسواں بل کے خلاف ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کررکھا تھا اور بدھ کو پہلی بار ایوان میں آئے تھے۔ ان کی آمد پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیرافگن خان نیازی، پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف اور متحدہ قومی موومنٹ کے بابر غوری نے خوش آمدید کہا۔ ایم ایم اے کی رکن جماعت جمعیت علمائے اسلام کے عبدالغفور حیدری نے کہا کہ پندرہ نومبر کو حقوق نسواں کے نام پر جو بل منظور ہوا ہے وہ غیر آئینی اور غیر شرعی تھا، اسی لیے ایم ایم اے کے اراکین بائیکاٹ پر تھے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ہر کسی کی اپنی رائے ہوتی ہے لیکن اکثریت رائے کا احترام کرنا چاہیے، انہوں نے بھی ایم ایم اے اراکین کو واپسی پر خوش آمدید کہا۔ بعد میں ایم ایم اے کے اراکین نے حقوق نسواں بل کو اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے نہ کرنے پر احتجاج کے طور پر واک آؤٹ کیا۔ |
اسی بارے میں ’درخواست واپس تو منیر آزاد‘30 December, 2006 | پاکستان اختر مینگل کو جیل بھیج دیا گیا26 December, 2006 | پاکستان ’سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے‘29 November, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کروایا جائے: مینگل13 September, 2006 | پاکستان رؤف مینگل نے استعفیٰ دے دیا06 September, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت پر شدید ردعمل27 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||