BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 30 December, 2006, 00:06 GMT 05:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’درخواست واپس تو منیر آزاد‘

منیر مینگل
سندھ ہائی کورٹ میں صوبے سے لاپتہ نو افراد کی بازیابی کے لیے دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران بلوچ وائس ٹی وی چینل کے ایم ڈی منیر مینگل کے اہل خانہ اپنی درخواست سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

منیر کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے ایسا کرنے سے منیر مینگل رہا ہو جائیں گے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مشیر عالم اور جسٹس مسلم ہانی پر مشتمل ڈویژن بنچ کے سامنے جمعہ کو منیر مینگل کی والدہ زلیخاں نےبتایا کہ گزشتہ رات ان کی کراچی ائرپورٹ کے ہوٹل سکائی روم میں منیر سے ملاقات کرائی گئی۔ ان کے ساتھ دو لوگ موجود تھے جو بتا رہے تھے کہ منیر کے دوست ہیں اور مینگل نے بھی اس کی تصدیق کی۔

منیر کی والدہ نے عدالت کو بتایا کہ ان لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر وہ درخواست واپس لے لیں تو مینگل واپس آجائیں گے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ یہ درخواست گزار پر منحصر ہے کہ وہ درخواست واپس لینا چاہتے ہیں یا نہیں جس کے بعد مینگل کی والدہ نے یہ درخواست واپس لے لی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اس درخواست کی واپسی سے عدالت کے دائرہ اختیار پر اثر نہیں پڑے گا اور وہ اگر کسی کی تحویل میں رہے ہیں تو اس کی تفتیش کی جائےگی۔

منیر مینگل کی بیوی عبیرہ منیر نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ ڈیڑھ ہفتے سے نامعلوم افراد انہیں ٹیلیفون کر رہے تھے کہ آپ عدالت سے درخواست واپس لے لیں تو منیر واپس آجائیں گے۔

مسز منیر کے مطابق انہوں نے ان لوگوں سے منیر سے ملاقات کروانے کے لئے کہا جس کے بعد جمعرات کی شب دس بجے کراچی ایئرپورٹ پر منیر سے ان کی ماں اور ماموں کی ملاقات کروائی گئی ۔

ان کے مطابق منیر نے اپنی ماں اور ماموں کو بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہیں مگر ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ منیر کے دوست لگ نہیں رہے تھے۔ ان کے مطابق دیکھنے میں منیر صحت مند تھے اور انہوں نے بھی یہ مشورہ دیا کہ کیس واپس لے لیں۔

دوسری جانب سندھ ہائی کورٹ میں کرائسز مینجمنٹ سیل کے ڈائریکٹر کرنل عمران فاروق یعقوب پیش ہوئے اور انہوں نے گمشدہ اور بازیاب ہونے والے افراد کی اس فہرست کو درست قرار دیا جو انہوں نے سپریم کورٹ میں پیش کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ لاپتہ افراد وزارت داخلہ کے تحویل میں نہیں اور بعض حساس ادارے ان کی وزارت کے ماتحت نہیں ہیں۔

پچھلے دنوں رہا ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے رہنما سلیم بلوچ نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا، جس میں انہوں نے بتایا کہ انہیں حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

ڈپٹی اٹارنی اختر علی محمود نے عدالت کو بتایا کہ سلیم بلوچ نے جو حلف نامہ دیا ہے اور الزامات لگائے ہیں وہ بھی وزیراعظم سیکریٹریٹ کے علم میں لائے جائیں گے تاکہ مناسب کارروائی کی جا سکے۔ عدالت نے اس مقدمے کی سماعت سولہ جنوری تک ملتوی کردی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد