BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 October, 2006, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خودسوزی: منیر خاندان کی دھمکی

منیر مینگل
منیر مینگل دبئی سے ٹی وی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے تھے
ایوب ترین بی بی سی کوئٹہ

بلوچ وائس ٹی وی کے ڈائریکٹرمنیر بلوچ کی بازیابی کیلیے ان کے رشتہ داروں نے دھمکی دی کہ آگر انہیں 10 دن کے اندر اندر منظر عام پرنہیں لایا گیا تو وہ کوئٹہ میں گورنر ہاوس کے سامنے خودسوزی کرینگے۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے منیر مینگل کی والدہ اور بہن حفیظہ کریم منگل نے بتایا کہ 8 ماہ گزرنے کے باوجود آج تک یہ معلوم نہی ہو سکا کہ خفیہ والوں نے منیر مینگل کو کس جرم میں اور کہاں رکھا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر منیر مینگل کودس دن کے اندر منظرعام پت لایا یا بازیاب نہیں کیا گیا توانکے اہل خانہ گورنر ہاوس کے سامنے احتجاجاً خود سوزی کرینگے۔

حفیظہ بی بی نے کہا کہ اگرمنیر مینگل پر کسی جرم کا کوئی الزام بھی ہے توانہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور عدالت کے ذریعے ہی انہیں سزادی جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ منیر مینگل کےبارے میں انکے اہل خانہ کوبتایا جائے کہ وہ کہاں ہے اورکس حالت میں ہے کیونکہ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔

واضع رہے کہ منیر مینگل کو8 ماہ قبل کراچی ائرپورٹ پر اس وقت گرفتار کیاگیا تھا کہ جب وہ بلوچ وائس ٹی وی کے سلسلے میں دبئی سے پاکستان آرہے تھے۔

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران کئی سو بلوچ نوجوان بلوچستان کے مختلف علاقوں کے لاپتہ ہیں۔ بلوچ قوم پرست اسکی ذمہ داری پاکستان کی مختلف خفیہ ایجنیسوں پرعائد کرتے ہیں اور ایجنسیوں کی جانب سے اس بارے میں اب تک کچھ نہیں کہا گیاہے۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد
 بلوچستان میں ڈھائی سے تین سو کے قریب ایسے لاپتہ افراد ہیں جن کے رشتہ داروں نے ان کی بازیابی کیلیے کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔ لیکن لاپتہ ہونے والوں کی تعداد اس سے کہيں زیادہ ہو سکتی ہے
ظہور شہوانی

انسانی حقوق کمیشن بلوچستان کے وائس چیرمین ملک ظہور شاہوانی نے کہا کہ کمیشن منیرمینگل، نصراللہ بنگلزی اورڈاکٹر امداد سمیت اس طرح کے کئی معاملات کی عدالتوں میں پیروی کررہا ہے لیکن بدقسمتی سےیہ ایجنیسوں والے اتنےبااثر ہوتے ہیں کہ اکثر توعدالتوں میں پیش ہی نہیں ہوتے۔

ظہور شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ڈھائی سے تین سو کے قریب ایسے لاپتہ افراد ہیں جن کے رشتہ داروں نے ان کی بازیابی کیلیے کمیشن سے رابطہ کیا ہے۔ لیکن لاپتہ ہونے والوں کی تعداد اس سے کہيں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کم علمی اور خوف کی وجہ سے بھی کئی کیسز ابھی تک سامنے نہیں آسکے ہیں۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل اسلام آباد میں پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے زیراہتمام ہونے والے سمینارمیں فیصلہ ہوا تھا کہ پورے ملک میں گمشدہ لوگوں بارے تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔

اس سیمینارمیں ملک بھر سے ان افراد کے رشتہ داروں نے شرکت کی تھی جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لا پتہ عزیز خفیہ والوں کے تحویل میں ہیں۔

اسی بارے میں
رؤف مینگل نے استعفیٰ دے دیا
06 September, 2006 | پاکستان
صفدر سرکی کہاں ہیں؟
23 May, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد