’سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ اگر ان کی لانگ مارچ کو روکا گیا تو آئندہ وہ سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے۔ ادھر کوہلو میں صدر جنرل مشرف کی پالیسوں کے حق میں جلوس نکالا گیا ہے۔ حب شہر کے قریب ساکران میں نظر بندی کے دوران ٹیلیفون پر باتیں کر تے ہوئے سردار اختر مینگل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پہاڑوں پر لڑنے والوں کے بارے میں حکومت کہتی ہے کہ یہ حقوق مانگنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور انھیں تخریب کار کہا جاتا ہے۔ ’ہم نے جمہوری طریقے سے اپنا احتجاج ریکارڈ کرنا چاہا تو اس پر پابندی لگائی جا رہی ہیں اب ہمیں سمجھ میں نہیں آتا کو وہ کونسی تیسری زبان ہے جو حکومت سمجھتی ہے۔‘ سردار اختر مینگل نے کہا کہ گوادر جانے والے تمام راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو ان کے کارکنوں اور قائدین کو گرفتار کر رہے ہیں۔ گرفتار قائدین میں سابق اراکین اسمبلی اختر لانگو اور موسی جان کے علاوہ جہانزیب بلوچ، ارباب نواز، جہانزیب جمالدینی بی ایس او کے قائدین اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ اس کے علاوہ پنجگور سے بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے ٹیلیفون پر کہا ہے کہ حکومت جمہوری احتجاج کے راستے غیر آئینی طریقے سے روک رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ آئین پرامن احتجاج کی اجازت دیتا ہے اور احتجاج سے پہلے یہ اندازہ کرنا کہ یہ پر امن نہیں ہوں گے غلط ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت اسی طرح تمام راستے روکتی رہی تو سول حکومت کا خدا ہی حافظ ہے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی اپیل پر کل یعنی جمعرات کو گوادر سے لانگ مارچ شروع ہوگا۔ پسنی سے مقامی صحافی امام بخش بہار نے کہا ہے کہ ساحلی شاہراہ کے علاوہ گوادر آنے والے تمام راستوں پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے کہا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائدین اور کارکنوں کو اس لیے حراست میں لیا جارہا ہے تاکہ لانگ مارچ کے حوالے سے امن و امان کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ ادھر کوہلو سے سابق نائب ناظم ذوالفقار نے بتایا ہے کہ انھوں نے صدر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں کے حق میں آج جلوس نکالا ہے جبکہ گوادر میں حکومت کی حلیف جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کا جلسہ ہوا ہے جس میں حکومت کی پالیسیوں کی حمایت کی گی ہے۔ | اسی بارے میں اختر مینگل رہائش گاہ پر نظر بند28 November, 2006 | پاکستان احتجاج جاری رہے گا: اختر مینگل28 November, 2006 | پاکستان مینگل: ’محکمۂ داخلہ کا حکم تھا‘28 November, 2006 | پاکستان فوجی آپریشن بند کروایا جائے: مینگل13 September, 2006 | پاکستان لانگ مارچ ضرور ہوگا: اختر مینگل26 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||