’میں کبھی اسے نہ جانے دیتی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’اگر مجھے ذرا سا بھی شک ہوتا کہ میرا بیٹا اب کبھی واپس نہیں آئے گا تو میں کبھی اسے نہ جانے دیتی۔‘ لاہور کے نواحی علاقے داروغہ والا کی تنگ و تاریک اور ٹیڑھی میڑھی گلیوں میں رہنے والی فردوس بی بی کا اکلوتا بیٹا حافظ قیصر بارہ فروری کی ایک دوپہر لاہورمیں متنازعہ کارٹونوں کے سلسلہ میں ہونے والے ہنگاموں میں ہلاک ہوگیا تھا۔ اس روز وہ آئینہ کے سامنے کھڑا اپنے بال سنوارتا رہا، پھر کہنے لگا کہ’ میں پیر صاحب کے ساتھ جا رہا ہوں۔‘ فردوس بی بی نے کہا کہ ’جب وہ پیر صاحب کے ساتھ جا رہا تھا تو میں اسے روکنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ وہ مجھے سلام کر کے چلا گیا اور پھر لوٹ کر نہیں آیا۔‘ اس کے والد فتح محمد نے کہا کہ ہمیں یہی بتایا گیا کہ جب وہ بینک کے سامنے سے گزرا تو بینک کے گارڈ نے فائر کر دیا اور وہ ہلاک ہوا۔
باپ اپنے بیٹے کو بے قصور ہی سمجھتا ہے۔ انہو ں نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’جب جلوس ختم ہوگیا تھا اور میرا بیٹا بھی لوٹ رہا تھا تو اس نے چند لڑکوں کو ایک بینک پر پتھراؤ کرتے دیکھا۔ قیصر نے انہیں روکنے کی کوشش کی کہ اسی دوران گارڈ نے بندوق چلا دی جس کا وہ نشانہ بن گیا۔‘ فتح محمد نے کہا کہ محلے کے لوگ اسے شہید قرار دیتے ہیں جبکہ وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے حوالے سے شائع ہونے والے ایک اخباری بیان میں اسے دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔ فتح محمد پہلے مقامی طور پر مسلم لیگ (ق) کے کارکن تھے اور ان کے مطابق وہ مقامی ناظم کے انتخاب میں انہوں نے اپنا کردار ادا کیا لیکن جب وزیر اعلٰی نے انہی کے بچے کو دہشت گرد قرار دیا اور جب وہ چلاتے رہے کہ میرا بیٹا شہید ہے اس کا پوسٹ مارٹم نہ کرایا جائے تو کسی حکمران نے ان کی بات نہیں سنی جس پر دلبرداشتہ ہو کر وہ مسلم لیگ (ق) کو چھوڑ چکے ہیں۔ ’اب میں کسی سیاسی پارٹی یا کسی بھی تنظیم میں نہیں ہوں۔ ‘ فتح محمد بات چیت روک کر نماز پڑھنے چلےگئے۔ واپسی پر اسی کمرے میں دوبارہ گفتگو کا آغاز ہوا جو کبھی حافظ قیصر کا ہوا کرتا تھا۔
کمرے میں ایک چٹائی تھی۔ہم لوگ جوتے سمیت آبیٹھے تو والد نے ہلکی سے خفگی کے ساتھ کہا کہ میرا بیٹا اس چٹائی پر بیٹھتا تھا آپ جوتے اتار دیں تو اچھا ہے۔ حافظ قیصر چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ آج بھی اس کی بہنوں نے اس کے کمرے سے اس کی زیرِ استعمال چیزیں نہیں ہٹائیں بلکہ وہ روز اس کی چیزوں پر پڑنے والی گرد صاف کردیتی ہیں۔ حافظ قیصر کے زیر استعمال رہنے والی دو مسواکیں (لکڑی کی ڈنڈیاں جن سے دانت صاف کیے جاتے ہیں )، مذہبی کتب اور نعتوں اور مذہبی تقاریر پر مبنی آڈیو کیسٹیں بھی اس کے کمرے میں موجود تھیں۔ ماں باپ دونوں ہی کئی ماہ گذر جانے کے باوجود بیٹے کی موت کے غم سے نڈھال نظر دکھائی دیتے ہیں۔ نوجوان کے والد فتح محمد نے کہا کہ جوان بیٹے کے بعد ان کی کایا پلٹ گئی ہے اب انہیں دنیا داری اور اس کے دھندے غیر اہم لگنے لگے ہیں۔ قریب ہی اس کا ڈیک ٹپ ریکارڈر موجود تھا اور چند آڈیو کیسٹیس پڑی تھیں جن میں نعتیں اور مذہبی رہنماؤں کی تقاریر تھیں۔ مسلمانوں میں دانت صاف کرنے کے لیے مسواک کا استعمال ثواب کا عمل سمجھا جاتا ہے۔ حافظ قیصر جس مسواک سے دانت صاف کرتا تھا اس کی والدہ نے وہ مسواک بھی سنبھال کر رکھی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ اس سے میرے بیٹے کے دہن کی خوشبو آتی ہے۔ والد فتح محمد نے بتایا کہ جب لاش گھر آئی تو پھر چندمذہبی تنظیموں کے لوگ بھی چکر لگاتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حافظ قیصر کی تصویر مانگ رہے تھے اور اسے شائع کرنے کی اجازت طلب کرتے تھے لیکن انہوں نے انکار کر دیا تھا۔ متوفی کے والد نے کہا کہ انہوں نے ایک دوسرے ہلاک شدہ لڑکے کی تصویر پر اپنی تنظیم کا علامتی نشان اور ایک نمبر لگا رکھا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر انہوں نے اس کی اجازت دی ہوتی تو شاید ان کے بیٹے کی تصویر پر بھی نشان اورنمبر لگ جاتا۔ انہوں نے کہا کہ اسی خدشے کی وجہ سے انہیں انٹرویو دیا تھا اور نہ ہی کوئی تصویر دی کیونکہ انہیں ان کے ہمسایوں نے ڈرا دیا تھا کہ یہ لوگ ان کے بیٹے کی تصویر بیرون ملک بھجوا کر کوئی فنڈ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا بیٹا شہید ہے اور وہ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لینا چاہتے۔
مقامی دکاندار فتح محمد اپنے بیٹے کو شہید قرار دیتے ہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتے کہ ان کے بیٹے کو شدت پسند سمجھا جائے یا پھر کسی بھی طرح دوسرے عام مسلمانوں سے الگ سمجھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جس دن میرا بیٹا ہلاک ہوا اس روز وہ اکیلا اس ہجوم میں نہیں تھا، وہاں لاکھوں لوگ تھے، خود میں بھی جانا چاہتا تھا لیکن محلے سے کوئی میرا ہم عمر ساتھ دینے والا نہیں ملا ورنہ میں بھی اسی مظاہرے میں ہوتا جہاں میرا بیٹا گیا تھا اور دوسرے بے شمار لوگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ’ وہ صرف ایک عاشق رسول تھا بالکل ایسا ہی جیسے اس شہر یا اس ملک میں رہنے والے لاکھوں کروڑوں دوسرے مسلمان ہیں۔‘ فتح محمد نے اپنے اکلوتے بیٹے کے بارے میں کہا کہ ’وہ صرف ایک حادثے کاشکار ہوا تھا اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔۔۔۔۔‘ |
اسی بارے میں تیسرے دن 3 ہلاک سو زخمی 15 February, 2006 | پاکستان غیرملکی اخباروں کے خلاف مقدمہ25 April, 2006 | پاکستان کارٹون: کراچی میں’ملین مارچ‘05 March, 2006 | پاکستان پاکستان میں کارٹون احتجاج جاری24 February, 2006 | پاکستان پاکستان: ڈنمارک کا سفیر وطن واپس 19 February, 2006 | پاکستان کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر17 February, 2006 | پاکستان کارٹون: لاہور پولیس پہرے میں17 February, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||