’نواز شریف، بینظیر انتخابات میں نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ فی الحال مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے کسی پاک بھارت مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق نہیں ہوا لیکن اس مسئلے کے حل کے لیئے پس پردہ بات چیت جاری ہے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سابق وزائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف آئندہ برس ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ جنرل مشرف نے تسلیم کیا ہے کہ بلوچستان میں نواب بگٹی کے قتل کے بعد نفرت اور غصے کا ایک لاوا پک رہا ہے جسے وہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں وزارتِ اطلاعات کے افطار ڈنر کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران بتائی۔ یاد رہے کہ حریت کانفرنس کے رہنما میر واعظ عُمرفاروق نے پیر کو بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ نئی دلّی اور اسلام آباد کشمیر پر مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر متفق ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوانا کانفرنس میں پاکستان کے صدر پرویز مشرف اور انڈین وزیراعظم منموہن سنگھ دہشت گردی کے خلاف باہمی طریقۂ کار کے علاوہ ایک ایسے مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل پر بھی متفق ہوگئے ہیں جس کا مقصد مسئلہ کشمیر کو حل کرنا ہے۔ میرواعظ عمر فاروق کے بیان سے قبل ہوانا کانفرنس میں دونوں ملکوں کے درمیان کشمیر کے موضوع پر کسی بات چیت کی خبر ذرائع ابلاغ میں سامنے نہیں آئی تھی۔
سرکریک اور سیاچن سے متعلق ایک سوال پر صدر مشرف نے کہا کہ اگر دونوں ملک چاہیں تو یہ معاملات صرف ایک اجلاس کے دوران طے پا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاچن کے مسئلے پر سیکرٹری خارجہ کی سطح پر بہت بات چیت ہوچکی ہے اور اب وقت فیصلہ کرنے کا ہے۔ اس سوال پر کہ پاکستان اور انڈیا کی خفیہ ایجنسیاں ایک دوسرے کے خلاف کام کرتی رہی ہیں تو یہ کیسے ممکن ہو گا کہ دونوں ادارے ایک میز پر بیٹھ کر خفیہ معلومات کا تبادلہ کریں، صدر مشرف نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ماضی میں دونوں ایجنسیاں ایک دوسرے کی دشمن رہی ہیں ’اور اسی کے پیشِ نظر ہمیں ایک نظام تشکیل دینا ہوگا جس کے تحت معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے‘۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر ممبئی بم دھماکوں کے حوالے سے ہونے والی الزام تراشی پر صدر جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ تاحال پاکستان کو کسی قسم کے ثبوت فراہم نہیں کیے گئے اور اگر انڈیا کا خیال ہے کہ ان کی اپنی خفیہ ایجنسی بہت شریفانہ انداز میں کام کرتی ہے تو یہ صحیح نہیں ہے۔ سن دو ہزار سات کے انتخابات صدر مشرف کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ سنہ 2007 کے انتخابات میں معتدل قوتوں کو فتح حاصل ہو اور شدت پسند شکست کھائیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں انہیں ایک معتدل مزاج رہنما کےطور پر جانا جاتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ساتھ دینے کے لیئے ان کی ہم مزاج حکومت بنے۔ اس سوال پر کہ ملک بھر میں پیپلز پارٹی سے حکومت کی ڈیل کی باتیں ہو رہی ہیں جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ وہ اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے لیکن یہ بات واضح ہے کہ آئندہ برس ہونے والے انتخابات میں وہ شدت پسند قوتوں کو شکست کھاتا دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ اگر شدت پسند عناصر فتح یاب ہوئے تو جس پاکستان کا خواب قائداعظم نے دیکھا تھا وہ باقی نہیں رہے گا۔
صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور دنیا بھر میں اسے انتہاپسندوں کی جائے پیدائش اور پناہ گاہ تصور کیا جا رہا ہے اس لیئے ان حالات میں میڈیا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معلومات کا تجزیہ منفی انداز میں کرنے کے بجائے اس کا مثبت پہلو دنیا کے سامنے لائے تاکہ پاکستان کا بہتر امیج دنیا کے سامنے پیش ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں فوج کے خلاف شائع یا نشر ہونے والی خبریں ان کے لیئے تکلیف کا باعث بنتی ہیں۔ اسلام آباد میں ملنے والے راکٹوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ اتنا آسان ہدف نہیں ہیں اور وہ اس بارے میں بھی پر یقین نہیں کہ ان راکٹوں کا ہدف بھی وہ خود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خفیہ اداروں نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان واقعات کے ذمہ دار افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کا تعلق انتہا پسندوں سے ہے۔
ڈاکٹر قدیر خان کو صدر مشرف کی کتاب میں لگائے جانے والے الزامات کے جواب دینے کا موقع فراہم کرنے سے متعق سوال پر جنرل مشرف نے کہا کہ نہ صرف لیبیا نے عالمی طور پر تسلیم کیا ہے کہ انہیں جوہری طاقت بنانے میں ڈاکٹر قدیر ملوث تھے بلکہ ڈاکٹر قدیر خود ٹی وی پر آ کر اپنے عمل کا اقرار کر چکے ہیں تو اب ان کے جواب کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام قومی سلامتی کا معاملہ ہے اور اس لیئے اس پر مزید بحث نہیں کی جا سکتی۔ پریس کانفرنس کے آغاز سے قبل توقع کی جا رہی تھی کہ صدر مشرف کوئی بڑا اعلان کرنے والے ہیں لیکن صدر نے اپنی کتاب سے حاصل ہونے رقم سے ’مشرف فاؤنڈیشن‘ کی تشکیل کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں کی۔ صدر نے بتایا کہ یہ کتاب لکھنے کے عوض انہیں ڈھائی لاکھ ڈالر ملے جس میں سے نوے ہزار ڈالر انہوں نے محتلف افراد کو ادا کر دیئے جبکہ باقی رقم سے وہ پاکستان کے غریب عوام کے لیئے ایک فاؤنڈیشن بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جنرل پرویز مشرف نے تسلیم کیا ہے کہ بلوچستان میں نواب بگٹی کے قتل کے بعد نفرت اور غصے کا ایک لاوا پک رہا ہے جسے وہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ جب ان سے ایک بلوچ خاتون صحافی نے کہا کہ ’جناب صدر آپ کو جو لوگ بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں نواب بگٹی کے قتل کے بعد س کچھ ٹھیک ہوچکا ہے تو یہ سب غلط ہے کیوں کہ وہاں بگٹی کی ہلاکت کے بعد نفرت اور شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور آپ اس لاوے کو پھٹنے سے پہلے روکیں‘۔ جس پر صدر نے کہا کہ ’میں اتنا بھی بیوقوف نہیں کہ صرف ایک ذریعے پر انحصار کروں‘۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بے چینی ہے اور لاوا بھی ہے جسے وہ سیاسی عمل کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق وہ جلد ایک جرگہ بلانے والے ہیں جس میں وہ بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کریں گے۔ صدر نے ایک بار پھر بلوچ مزاحمت کاروں کو پیغام دیا کہ وہ بندوقیں پھینکیں اور حکومت کا ساتھ دیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ’وہاں کچھ ملک دشمن عناصر ہیں جنہیں باہر سے رقم اور اسلحہ ملتا ہے اور وہی لوگ شدت پسند کارروائیاں کر رہے ہیں انہیں میں ماروں گا‘۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت بلوچستان کے تیس ہزار سے زائد افراد کو ملازمتیں دے چکی ہے اور مزید بھی دے گی۔ انہوں نے صوبہ بھر میں جاری ترقیاتی سکیموں کی تفصیل بتائی اور کہا کہ جب وہ ماضی میں بلوچستان کو نظر انداز کیے جانے پر معافی مانگتے ہیں اور اب صوبائی خودمختاری سمیت ان کی مرضی کے مطابق حقوق بھی دینا چاہتے تو پھر شدت پسند کارروائیاں کیوں ہورہی ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پچانوے فیصد علاقہ ’بی ایریا، یعنی وہاں حکومت کی رٹ نہیں اور چند سردار پینتیس برسوں سے ریاستِ پاکستان کو بلیک میل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے پچاس سے زائد فراری کیمپ تھے جس میں سے اب چند رہ گئے ہیں جو وہ ختم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں گولے مارنے والے کرائے کے لوگ ہیں حکومت انہیں مارنے کی بجائے مسئلے کو جڑ سے اکھاڑنے اور اس کا مرکز تباہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ صدر نے بتایا کہ بلوچستان میں تانبے اور سونے سمیت دیگر معدنیات کی بڑی کانوں کا ٹھیکہ دینے کے لیئے کینیڈا اور چِلی کی کمپنیوں سے بات چیت ہورہی ہے۔ ان کے مطابق سونے اور تانبے کی کان کی پیداوار کا پچیس فیصد جبکہ جست کی کان سے دس فیصد بلوچستان کی صوبائی حکومت کو دیں گے۔ انہوں نے افغانستان میں نیٹو فورسز کے کمانڈر ڈیوڈ رچرڈز سے ہونے والی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا تو ایسا تاثر دے رہا تھا کہ پتہ نہیں کیا ہوگا۔ لیکن صدر نے کہا کہ نیٹو کمانڈر کو انہوں نے جو کچھ کہا اور بتایا وہ انہوں نے تسلیم کیا اور کوئی اختلافی بات نہیں کی۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ پانچ برسوں سے القائدہ کے خلاف کارروائی کی اور انہیں شہروں اور قبائلی علاقوں سے نکالا اب وہ کہیں پہاڑوں میں بھاگتے پھرتے ہیں۔ ان کے مطابق فوجی کارروائی کے بعد اب ضروری تھا کہ سیاسی عمل شروع کریں اور انہوں نے شدت پسند طالبان کے حامی قبائیلیوں سے پرامن رہنے کے لیے صدیوں پرانا قبائلی رسم رواج والا نظام بحال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں پڑھنے والے سب طالبان ہیں اور وہ سب شدت پسند نہیں بلکہ ان کے مطابق حکومت صرف شدت پسند طالبان کے خلاف ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے امن پسند قبائل کی مدد کرے گی اور انہیں اسلحہ بھی دے گی کہ وہ شرپسند عناصر سے نمٹیں۔تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ ضمانت نہیں دے سکتے کہ مستقبل میں ان کی قبائلی علاقوں کے بارے میں اپنائی جانے والی حکمت عملی کامیاب ہوگی۔ ایک سوال پر صدر نے کہا کہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کو بھارت کا ایجنٹ نہ کہیں وہ ایک صدر ہیں اور ان کے برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’ہند و پاک ورکنگ گروپ بنے گا‘09 October, 2006 | انڈیا ’مذاکرات جاری رہیں گے‘23 August, 2006 | انڈیا ’دھماکے آئی ایس آئی کی سازش‘30 September, 2006 | انڈیا امن مذاکرات معطل کریں: بی جے پی01 October, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||