BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 October, 2006, 17:05 GMT 22:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکوں کے ثبوت، کیاکرناچاہیئے تھا؟

شو شنکر
خارجہ سیکرٹری شوشنکرمینن نے کہا ہے کہ ممبئی بم دھماکوں کی تحقیقات سے حاصل ہونے والے ثبوت پاکستان کو فراہم کیئے جائیں گے
ہندوستان کے خارجہ سیکرٹری نے کہا ہے کہ پاکستان کو جلد ہی وہ تمام ثبوت فراہم کر دیئے جائیں گے جن کی بنیاد پر یہ واضح ہوتا ہے کہ گیارہ جولائی کو ہونے والے ممبئی بم دھماکوں میں پاکستان کی خفیہ ایجسنی آئی ایس آئی ملوث تھی۔

واضح رہے کہ پاکستان اس سے پہلے کہہ چکا ہے کہ ہندوستان نے بے بنیاد الزام ‏عائد کیئے ہیں۔

اس دوران دونوں ملکوں کے درمیان دہشت گردی پر قابو پانے کے لیئے جو ’میکنزم‘ بنایا گیا ہے اسے عمل میں لانے کی سب سے زيادہ ضرورت ہے ۔ اس کے تحت ہندوستان تمام شواہد پاکستان کے سامنے پیش کرے اور اسی کی بنیاد پر بات چیت آگے بڑھائی جائے۔

اس معاملے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں نہ تو پاکستان کا رویہ صحیح ہے اور نہ ہی ہندوستان کا۔

جس طرح ممبئی میں پولیس کمشنر نے ذرائع ابلاغ کے سامنے بیان دیا ہے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اگر ہندوستان کے پاس ثبوت موجود تھے تو اسے میڈیا کے پاس جانے کے برعکس اسے ’جوانٹ میکنزم‘ کے تحت یہ ثبوت پاکستان کے سامنے پیش کرنے چاہئیں تھے۔

محسوس یہ ہوتا ہے کہ دونوں ملکوں کی حکومتوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ اس معاملے پر ساری بات چیت میڈیا کے ذریعے ہی کی جائے گی۔

توقع کی جاتی ہے کہ جو الزام ممبئی پولیس نے پاکستان پر عائد کیا ہے اس کی بنیاد کمزور نہیں ہو گی۔ ڈر صرف اس بات کا ہے کہ کہیں یہ ثبوت حراست میں اقبالیہ بیان کی مدد سے ہی حاصل نہ کیئے گئے ہوں۔ بعض اوقات اس قسم کے اقبالیہ بیانات کو عدالت اہمیت نہيں دیتی ہے۔

اس سلسلے میں آگے کے اقدامات کا رخ شواہد کی تفصیلات سے ہو گا اور یہ بھی ایک اہم بات ہوگی کہ ہندوستان انہيں پاکستان کے سامنے کس طرح پیش کرتا ہے اور پاکستان اس پر کیا رد عمل ظاہر کرتا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب دونوں ملکوں نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لیئے ایک خصوصی ’میکنزم‘ بنایا ہوا ہے تو اسے کام کرنے کا موقع بھی تو دینا چاہئیے۔

دوسری جانب پاکستان کے صدر پرويز مشرف نے یہ قبول کیا ہے کہ ملک کی خفیہ ایجسنی آئی ایس ائی میں بعض خراب عناصر ہو سکتے ہیں۔

ممبئی پولیس نے آئی ایس آئی کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی ہیں اور یہ بھی نہیں بتایا ہے کہ ثبوت سرکاری نوعیت کے ہیں یا پھر غیر سرکاری۔

بی جے پی کامیاب؟
انڈیا میں سیکورٹی کے لیئے کیلیئے ہرقربانی جائز
فائل فوٹوبمبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں ایک اور ملزم قصوروار
فائل فوٹوممبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں نو ملزمان مجرم ثابت
مالیگاؤں دھماکے
میں زخمی کا نام نہ پوچھ پایا: ایک عینی شاہد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد