BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 07 April, 2006, 16:30 GMT 21:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مینگل کا محاصرہ برقرار، ثالثی ناکام

اختر مینگل کے گھر کا محاصرہ
پولیس کی جانب سے اختر مینگل کے گھر کا محاصرہ جاری ہے
کراچی میں بلوچ قوم پرست رہنما سردار اختر مینگل اور ملٹری انٹیلیجنس کے درمیان سندھ کے وزیرِاعلی کی جانب سے ثالثی کی کوشش ناکام ہوگئی ہے۔

احتر مینگل کے والد سردار عطااللہ مینگل کے مطابق سندھ کے وزیرِاعلیٰ ارباب غلام رحیم کی اختر مینگل کے ساتھ بات ہوئی تھی اور انہوں نے مینگل اور ملٹری انٹیلیجنس کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی تھی جسے اختر مینگل نے قبول کر لیا۔

تاہم عطااللہ مینگل کے مطابق ملٹری انٹیلیجنس کا کہنا تھا کہ اختر کو ان کے پاس جانا پڑےگا۔ اس مطالبے کو اختر مینگل نے رد کر دیا اور کہا کہ ’اگر وہ مجھ پکڑنا چاہتے ہیں تو آ کر پکڑیں میں وہاں نہیں جاؤں گا‘۔

سردار عطا اللہ مینگل نے بی بی سی کو بتایا کہ ملٹری انٹیلیجنس کے بریگیڈیئر کی جانب سے جمعرات کی شب اور جمعہ کی صبح اختر مینگل سے رابطہ کیا گیا کہ وہ بریگیڈیئر سے آ کر ملیں مگر اختر نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ’وہ ملنا چاہتے ہیں تو آئیں میں نہیں جاؤں گا‘۔

ارباب غلام رحیم نے مینگل اور ملٹری انٹیلیجنس کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی تھی

کراچی پولیس کی جانب سے بلوچ قوم پرست رہنما اور سابق وزیر اعلیٰ سردار اختر مینگل کے گھر کا محاصرہ بھی جاری ہے۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس میں خیابانِ شمشیر پر واقع اختر مینگل کی رہائشگاہ میں بی این پی کے ایم این اے رؤف مینگل اور بلوچستان اسمبلی کے دو اراکین اکبر مینگل اور اختر لانگو بھی موجود ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کی آّٹھ سے زائد موبائلوں نے گھر کو محاصرے میں لے رکھا ہے۔ جمعہ کی دوپہر پولیس نے اختر مینگل کے والد عطااللہ مینگل کے گھر کا بھی محاصرہ کر لیا تھا جو شام کو ختم کیا گیا۔

پولیس کے محاصرے کے بعد اختر مینگل نے اپنے بچوں کو گھر سے نامعلوم جگہ منتقل کر دیا تھا جس پر پولیس نے ان کے والد کے گھر کا بھی محاصرہ کر لیا تھا۔

عطااللہ مینگل کے گھر کا بھی محاصرہ کر لیا گیا تھا جو شام کو ختم کیا گیا۔

سردار عطااللہ مینگل نے بتایا کہ ’اختر کے بچوں کو پولیس نے جمعہ کے روز ہسپتال لے جانے کی اجازت دے دی اور میرا پوتا انہیں ہسپتال لےگیا‘۔ انہوں نے بتایا کہ ’اختر نے میرے پوتے کو ہدایت کی کہ بچوں کو واپس نہیں لانا ان کو رشتہ داروں کے پاس چھوڑ دینا، کیونکہ صبح شام محاصرے سے بچے پریشان ہو رہے ہیں‘۔

عطااللہ مینگل کا کہنا تھا کہ’جب میرا پوتا واپس اختر کے گھر پہنچا تو اس سے پولیس نے پوچھا کہ بچے کہاں ہیں، ان کا پتہ دو تو اس نے انکار کردیا جس کے بعد وہ یہاں آئے اور کہا کہ لڑکا ہمارے حوالے کریں‘۔

مینگل سردار کے مطابق ہمارے انکار پر پولیس نے باہر سے کنڈی لگا دی۔’ میں نے انہیں صاف کہا کہ ہم لڑکا نہیں دیں گے، آپ کو جو کرنا ہے کرو، ہمارے پاس ہتھیار تو نہیں ہیں مگر ناخن ہیں جو آپ میں گاڑ دیں گے‘۔

عطااللہ مینگل نے بتایا کہ’ہم نے باہر سے کنڈا کھلوایا اور پولیس موبائل کو لاتیں مار کر کہا کہ اس کو ہٹائیں ورنہ اس کو جلا دیں گے جس کے بعد گیٹ سے موبائل کو ہٹایا گیا‘۔

اختر مینگل کے گھر کے محاصرے پر احتجاج

دوسری جانب اختر مینگل کےگھر سے گرفتار ہونے والے تین ملازمین کو جمعہ کے روز انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں سات دن کے ریمانڈ پر تفتیشی پولیس کے حوالے کردیا۔

سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو نے بھی اختر مینگل کے گھر پہنچ کر ان سے ملاقات کی کوشش کی مگر پولیس نے انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد انہوں کچھ منٹ گھر کے دروازے پر ان سے بات چیت کی۔

دوسری جانب فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ سردار اختر مینگل کی سلامتی کے نقطۂ نظر کے تحت انہیں سکیورٹی فراہم کی گئی ہے کیونکہ اسلحہ کے لائسنس منسوخ ہونے کے بعد ان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد