’رقم پہنچنے میں وقت لگے گا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے عالمی برادری کی جانب سے زلزلہ زدگان کی امدادی رقم کے وعدے جلد پورے ہونے کی توقع ظاہر کی ہے۔ تاہم اقوام متحدہ سے منسلک ماہر کا کہنا ہے کہ رقم پاکستان تک پہنچنے میں مہینے بھی لگ سکتے ہیں۔ انیس نومبر کو اسلام آباد میں ہونے والی عالمی امدادی کانفرنس میں امداد دینے والے ممالک نے پاکستانی حکومت کی جانب سے مطلوبہ ہدف سے زیادہ رقم کے وعدے کیے تھے۔ اس اجلاس کو ختم ہوئے ایک ہفتے سے زیادہ مدت گزر چکی ہے اور ابھی تک پاکستان حکومت کی طرف سے ایسی کوئی نوید نہیں آئی کہ اسے اس رقم میں سے کچھ ملنا شروع ہوا ہے کہ نہیں۔ ادھر متاثرہ علاقوں کی صورتِ حال یہ ہے کہ ہزاروں متاثرین ایک جانب سرد موسم کی بے رحم ہواؤں اور کئی علاقوں میں شروع ہوجانے والی برف باری کا نشانہ بن رہے ہیں اور دوسری جانب اقوام متحدہ ان کی فوری مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات پر زور دے رہی ہے۔ بی بی سی اردو سروس کے جعفر رضوی نے پاکستان میں وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم سے پوچھا کہ آخر یہ رقم کب، کس انداز میں اور کس طریقے سے مل سکتی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی ترجمان نے کہا پاکستان کی کوشش ہے کہ اسے جلد از جلد امدادی رقم مل جائے اور تعمیرِ نو اور بحالی کا کام شروع کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’فوری ضرورت تو ہے لوگوں کو مکانات اور ریلیف پہنچانے کی تو وہ تو ہم کر رہے ہیں۔ ہم نے ملکی ذرائع بھی استعمال کیے ہیں تاہم ہم چاہتے ہیں کہ انیس نومبر کو کیے گئے وعدے جلد از جلد پورے کیے جائیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’آسان قرضوں کے متعلق تو ابھی حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ کن ممالک سے، کب اور کیسے لینے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ امدادی رقوم یا گرانٹس جلد از جلد مل جائیں‘۔ تسنیم اسلم نے کہا کہ ہم صرف امید کا اظہار کر سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک نے کانفرنس میں شرکت کی تھی ان کے اعلیٰ سطحی نمائندے پاکستان آ کر متاثرہ علاقوں کے دورے کر رہے ہیں۔ ’اس لیے میرے خیال میں ان کو بار بار امداد کے لیے یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے اور انہیں موسم کی حالت کا بھی پتہ ہے‘۔ تسنیم اسلم نے توقع ظاہر کی کہ عالمی برادری زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے رقوم جلد فراہم کرے گی۔ تاہم نیویارک میں اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ اہلکار احمد کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ اس طرح کی وعدہ شدہ رقم کو کسی متاثرہ ملک تک پہنچنے میں مہینے لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ پانچ یا چھ بلین ڈالر کل پاکستان پہنچ جائیں گے۔ اس رقم کے ملنے میں کافی مہینے لگ سکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ جو فوری مدد لوگوں کو چاہیئے وہ خوراک ہے جو کافی حد تک لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ دوسری مدد سر پر چھت یعنی مکانات ہیں۔ ’اقوامِ متحدہ کے پاس جو اعداد و شمار آئے ہیں اس کے مطابق ابھی تک پاکستان فوج نے آٹھ ہزار شیلٹر بنائے ہیں اور تیرہ ہزار کے قریب نجی شعبے نے بنائے ہیں۔ اسے کے علاوہ فوری امداد میں صحت اور صفائی ہے جس کے سلسلے میں ابھی کافی کام کرنا پڑے گا‘۔ احمد کمال نے کہا کہ جو امدادی رقوم پاکستان کو ملنی ہیں اس کے تین حصے ہیں۔ ’پہلی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے ملنے والی رقم ہے۔ دوسری وہ امداد ہے جو فوجی ہیلی کاپٹروں کی شکل میں مل رہی ہے۔ اور تیسری وہ امداد جو ممالک پہلے ہی دے چکے ہیں جیسا کہ امریکہ وغیرہ کی طرف سے ملنے والی امداد‘۔ |
اسی بارے میں تعمیرِنو ایک بڑا چیلنج: شوکت عزیز26 November, 2005 | پاکستان چھپڑ بالا کے درخت کس کام کے؟26 November, 2005 | پاکستان ’13 لاکھ افراد کو خوراک پہنچانا ہے‘25 November, 2005 | پاکستان باغ: خیمہ بستی اکھاڑنے پر جھگڑا25 November, 2005 | پاکستان پہاڑوں پر رہ جانےوالوں کی فکر24 November, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||