ایف سی کا آپریشن،’عسکریت پسند کمانڈر سمیت تین ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے کمانڈر سمیت تین عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔
فرنٹیئر کور کے ترجمان کی جانب سے بدھ کی صبح جاری ہونے والے بیان کے مطابق یہ آپریشن دشت میں میروانی ڈیم کے قریب حساس اداروں اور ایف سی کے اہلکاروں نے مشترکہ طور پر کیا۔
ایف سی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم بلوچ ریپبلکن آرمی کا ایک کمانڈر ماما بگٹی اپنے دو ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
آزاد ذرائع سے تاحال ان افراد کی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایف سی کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مارے جانے والے عسکریت پسند شادی کور ڈیم پر کام کرنے والے مزدوروں کے قتل میں ملوث تھے۔
ترجمان کے مطابق ان کے قبضے سے ایک کلاشنکوف، چار دستی بم اور راکٹ لانچر کی مدد سے پھینکے جانے والے گرینیڈز کے علاوہ دیگر اسلحہ بھی ملا ہے۔
خیال رہے کہ ایسی ہی ایک کارروائی گذشتہ برس بھی تربت میں کی گئی تھی جس میں گوگ دان میں ایک کیمپ پر حملے کے دوران 20 مزدوروں کی ہلاکت میں ملوث 13 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیاگیا تھا۔
تشدد زدہ لاشیں
دوسری جانب کیچ کے علاقے دشت ہی سے گذشتہ شب دو افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ضلعی ہیڈکوارٹر تربت میں انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق نامعلوم افراد نے انھیں گولی مار کر ہلاک کیا ہے۔
دونوں لاشوں کو شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا اور انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک کا تعلق کوئٹہ جبکہ دوسرے کا تعلق پنجاب کے شہر سرگودھا سے تھا۔
دونوں افراد کو ہلاک کرنے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔
کیچ ایران سے متصل بلوچستان کا سرحدی ضلع ہے اور اس کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو شورش سے متاثر ہیں۔
درین اثنا قوم پرست جماعت بلوچ ریپبلیکن پارٹی نے کیچ میں مارے جانے والے تین افراد کی سیکورٹی فروسز سے فائرنگ کے تبادلے میں ہلاکت کے دعوے کو مسترد کیا ہے۔
میڈیا کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں پارٹی کے مرکزی ترجمان کے مطابق مارے جانے والے تین افراد میں سے دو کی شناخت ہوئی ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک لاش پارٹی کے کارکن ثناء اللہ بلوچ کی تھی جس کو گذشتہ سال 22 ستمبر کو گوادر سے جبری طور پر لاپتہ کیاگیا تھا جبکہ دوسری لاش پٹھان مری کی ہے جنھیں اس سال 27فروری کو لاپتہ کیا گیا تھا ۔
بیان کے مطابق ان افراد کو ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاشیں پھینک دی گئی تھیں۔







