تربت میں مزدوروں کی ہلاکت، جے آئی ٹی کی تشکیل

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے تربت میں 20 مزدوروں کی ہلاکت کے بعد مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی۔
کیچ انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ جے آئی ٹی مکران کے ریجنل پولیس آفسر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی لیویز فورس کے ان آٹھ اہلکاروں سے تفتیش کرے گی جو تربت میں مزدوروں کے کیمپ کی حفاظت پر مامور تھے۔
<link type="page"><caption> مزدوروں کی ہلاکت کی وجہ ناقص سکیورٹی تھی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/04/150411_turbat_firing_labour_killed_hk.shtml" platform="highweb"/></link>
سندھ سے صحافی علی حسن کے مطابق تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے پانچ اور ضلع بدین سے تعلق رکھنے والے دو مزدوروں کی نمازِ جنازہ اتوار کی صبح ان کے آبائی علاقوں میں ادا کی گئی۔
واضح رہے کہ جمے اور سنیچر کی درمیانی شب تربت کے قریب گوگدان کے جس علاقے میں مزدوروں پر حملہ کیا گیا تھا وہ انتظامی لحاظ سے پولیس کے کنٹرول میں ہے۔
تاہم کیمپ کی حفاظت کے لیے لیویز فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ غفلت برتنے کے الزام میں آٹھوں لیویز فورس کے اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
کیچ انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے بعد جے آئی ٹی کے ذریعے تفتیش کے لیے لیویز فورس کے اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
خیال رہے کہ مزدوروں کے کیمپ پر ہونے والے حملے میں 20 مزدور ہلاک اور تین زخمی ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیویز فورس کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے مزدوروں میں سے13 کا تعلق پنجاب کے علاقے صادق آباد سے جبکہ سات کا تعلق سندھ کے علاقے تھرپارکر سے تھا۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے مزدوروں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’بے گناہ اور نہتے مزدوروں کا قتل بلوچ قومی روایات، انسانی اقدار اور اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے اندوہناک اور بربریت پر مبنی اقدام نے بلوچ قوم کی سنہری روایات اور درخشندہ اقدار پر دنیا بھر میں سوالات کھڑے کردیے ہیں۔‘
خیال رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نامی تنظیم نے تربت میں مزدوروں کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔







