’تربت میں 20 مزدوروں کی ہلاکت کی وجہ ناقص سکیورٹی تھی‘

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں مسلح افراد نے فائرنگ کر کے 20 مزدوروں کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا ہے۔
یہ واقعہ جمعے کی شب گوگ دان کے علاقے میں واقع ایک کیمپ میں پیش آیا جہاں ایک ڈیم پر کام کرنے والے مزدور مقیم تھے۔
صوبائی وزیرِ داخلہ سرفراز بگٹی نے سنیچر کو پریس کانفرنس میں تسلیم کیا کہ یہ حملہ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں کی غفلت کے باعث ہوا اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چھ سکیورٹی اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تمام محرکات کا جائزہ لے کر ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔
ضلع کیچ کے ڈپٹی کمشنر ممتاز علی نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ رات دو بجے کے قریب مسلح افراد نے مزدوروں کے رہائشی کیمپ پر حملہ کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی اور کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے مزدوروں کا تعلق صوبہ پنجاب اور سندھ سے ہے اور انھیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال تربت منتقل کر دیا گیا ہے۔
مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ میتوں کو اُن کے آبائی علاقوں میں بھجوا دی گئی ہیں۔
سرکاری ٹی وی کے مطابق کمشنر مکران نے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے 13 کا تعلق صوبہ پنجاب کے علاقے صادق آباد اور رحیم یار خان سے تھا جبکہ 7 کا تعلق صوبہ سندھ کے علاقے حیدرآباد سے تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس میں بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکام اس معاملے میں سکیورٹی اہلکار غفلت کے مرتکب ہوئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سانحہ تربت کا جائزہ لے کر ایک ہفتے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی عوام کوشرپسندوں کے خلاف متحد ہونا ہو گا۔
بلوچستان حکومت کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان کی میتیں بذریعہ ہیلی کاپٹر ان کے آبائی علاقوں میں پہنچانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان لبریشن فرنٹ نامی تنظیم نے اپنے تحریری بیان میں تربت واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم اور صدر نے واقعے کی شدید مذمت کی ہے اور فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
بلوچستان حکومت نے ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے لیے 10، 10 لاکھ روپےجبکہ زخمیوں کے لیے 50، 50 ہزار روپے امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ تربت بلوچستان کے ان علاقوں میں شامل ہے جو شورش سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ یہاں تعمیرانی کمپنیوں میں کام کرنے والوں پر پہلے بھی کئی بار حملے ہو چکے ہیں۔







