بلوچستان: کیچ سے تین تشدد زدہ لاشیں برآمد

کیچ کا علاقہ خاصے عرصے سے شورش کا شکار ہے اور یہاں پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں ملتی رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکیچ کا علاقہ خاصے عرصے سے شورش کا شکار ہے اور یہاں پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں ملتی رہی ہیں

لیویز کے ذرائع نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع کیچ کی تحصیل مند سے تین افراد کی تشدد زدہ لاشیں ملی ہیں۔ ان کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کیا ہے۔

حکام کے مطابق تین میں سے دو لاشوں کی شناخت ہو گئی ہے۔ ان میں سے ایک کا تعلق کیچ ہی کے علاقے دشت سے، اور دوسرے کا تحصیل مند سے ہے۔

تیسری لاش کی شناخت نہیں ہو سکی اور سکیورٹی اداروں اسے بھی شناخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لاشوں کو مقامی ہستپال منتقل کر دیا گیا ہے اور پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

تاحال اس تہرے قتل کے محرکات معلوم نہیں ہو سکے۔

کیچ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں شورش کے باعث امن امان کی صوت حال بےحد خراب ہے اور یہاں پہلے بھی تشدد زدہ لاشیں ملتی رہی ہیں۔

محمکۂ داخلہ کے ذرائع کے مطابق 2014 کے شروع سے نومبر کے وسط تک بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 144 لاشیں ملی ہیں۔

اس کے بعد گذشتہ ڈیڑھ ماہ میں کئی لاشیں مختلف علاقوں سے ملتی رہی ہیں جس کے بعد یہاں سے ملنے والی کل لاشوں کی تعداد ڈیڑھ سو سے تجاوز کر گئی ہے۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ خاصے عرصے سے موجود ہے اور اس کے خلاف بلوچستان کے علاوہ ملک کے کئی دوسرے حصوں میں بھی احتجاج ہو چکے ہیں۔

لاپتہ افراد کے اہلخانہ اور حقوق انسانی کی تنظیمیں الزام عائد کرتی ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں ان واقعات میں ملوث ہیں، جب کہ دوسری جانب سکیورٹی ادارے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔