مزدوروں کی ہلاکت میں ملوث 13 عسکریت پسند ہلاک:ایف سی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں فرنٹیئر کور نے حساس اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائی میں 20 مزدوروں کے قتل میں ملوث 13 عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کےترجمان کی جانب سے پیر کی صبح یہ بیان سامنے آیا کہ خفیہ اطلاع پر تربت شہر سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گیبن نامی علاقے میں سرچ آپریشن کیا گیا۔
<link type="page"><caption> مزدوروں کی ہلاکت کی وجہ ناقص سکیورٹی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/04/150411_turbat_firing_labour_killed_hk" platform="highweb"/></link>
ایف سی ترجمان کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں فائرنگ کے تبادلے میں 13 عسکریت پسند ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں کالعدم تنظیم کا ایک کمانڈر بھی شامل ہے جبکہ ایک اور کمانڈر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ایف سی ترجمان نے بتایا کہ ہلاک اور گرفتار ہونے والے عسکریت پسند جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب تربت کے نواحی علاقے گوگ دان میں قتل ہونے والے 20 مزدوروں کی ہلاکت میں ملوث تھے۔
لیویز فورس کے ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے مزدوروں میں سے 13 کا تعلق پنجاب کے علاقے صادق آباد سے جبکہ سات کا تعلق سندھ کے علاقے تھرپارکر سے تھا۔
گذشتہ روز اس واقعے کا مقدمہ تربت پولیس سٹیشن میں درج کر لیا گیا۔ یہ مقدمہ ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ اور کالعدم عسکریت پسند تنظیم کے ترجمان گہرام بلوچ کے خلاف درج کیا گیا۔
واضح رہے کہ جمے اور سنیچر کی درمیانی شب تربت کے قریب گوگدان کے جس علاقے میں مزدوروں پر حملہ کیا گیا تھا وہ انتظامی لحاظ سے پولیس کے کنٹرول میں ہے۔ تاہم کیمپ کی حفاظت کے لیے لیویز فورس کے اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ غفلت برتنے کے الزام میں آٹھوں لیویز فورس کے اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیچ انتظامیہ کے مطابق گرفتاری کے بعد جے آئی ٹی کے ذریعے تفتیش کے لیے لیویز فورس کے اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ نامی تنظیم نے تربت میں مزدوروں کے کیمپ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔







