پاکستان کا بھارت کے لیے چار نکاتی امن ایجنڈا

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑکاحصہ نہیں بنے گا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑکاحصہ نہیں بنے گا

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران بھارت کو امن عمل کے لیے 4 نکاتی ایجنڈا پیش کیا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ اعظم نے مسئلہِ کشمیر اجاگر کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہ ہونے کو اقوامِ متحدہ کی ناکامی قرار دیا۔

<link type="page"><caption> ’اقوام متحدہ کی پاک بھارت مذاکرات میں کردار ادا کرنے کی پیشکش‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/09/150928_nawaz_ban_ki_moon_meeting_zh" platform="highweb"/></link>

پاکستان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ سنہ 2013 میں تیسری بار وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد ان کی مسلسل کوشش رہی ہے کہ بھارت سے تعلقات بہتر ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو کشیدگی کا باعث بننے والی وجوہات کو حل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرنے چاہیں۔

’اسی لیے میں آج اس موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو امن کے لیے تجاویز پیش کرنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ اقدامات ہیں جن پر عمل کرنا نہایت آسان ہے۔

1: پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو سنہ 2003 کے لائن آف کنٹرول پر مکمل جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کرتے ہوئےاس پر عمل کرنا چاہیے۔ دونوں ملکوں میں اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپوں کومزید فعال کیا جائے۔

2: ہم یہ تجویز کرتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کسی بھی طرح کے حالات میں طاقت کا استعمال نہیں کریں گے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا مرکزی حصہ ہے۔

3: کشمیر کو ڈیملیٹرائز یعنی غیر عسکری کرنا۔

4: دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن سے فوجوں کی غیر مشروط واپسی۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے سے روکنے کا میکنزم بنایا جائے، جبکہ پاکستان اور ہندوستان تنازعات کے حل کےلیے جامع مذاکرات کاسلسلہ شروع کریں۔

پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں ہتھیاروں کی دوڑکاحصہ نہیں بنے گا، تاہم خطے میں ہونے والی تبدیلیوں سے الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔

انھوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا عالمی امن کےلیے تشویش کاباعث بن رہا ہے، بھارت نے ایل اوسی اور ورکنگ باؤنڈری پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں معمول بنالی ہیں جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہائیاں گزرنے کے باوجود کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونا ادارے کی ناکامی ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو کشیدگی کا باعث بننے والی وجہ کو حل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرنے چاہیئں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننواز شریف کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کو کشیدگی کا باعث بننے والی وجہ کو حل کرنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کرنے چاہیئں

بھارت کا ردِ عمل

پاکستانی وزیرِ اعظم کی اقوامِ متحدہ میں تقریر کے ردِ عمل میں بھارت کے دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ میں سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ردِ عمل میں کہا کہ ’پاکستان دہشت گردی کا نہیں بلکہ خود اپنی پالیسیوں کا شکار ہے۔ بلکہ یہ خود دہشت گردی کا بڑا سہولت کار ہے۔‘

ایک دوسری ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا ’کشمیر کو غیر عسکری کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ حل پاکستان کو غیر عسکری کرنا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان میں عدم استحکام اس کے پیدا کردہ دہشت گردوں کی وجہ سے ہے۔ اس کے لیے ہمسائیوں پر الزام تراشی حل نہیں ہے۔ ‘