’مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر پیشگی شرائط قبول نہیں‘

مذاکرات نہیں ہوں گے اگر ان میں کشمیر کو شامل نہیں کیا جائے گا
،تصویر کا کیپشنمذاکرات نہیں ہوں گے اگر ان میں کشمیر کو شامل نہیں کیا جائے گا

پاکستان نے ایک بار پھر بھارت سے مذاکرات کرنے کی بات کی ہے تاہم اس بات کو دوہرایا ہے کہ مذاکرات میں کشمیر کا معاملہ شامل ہو اور پیشگی شرائط عائد نہ کی جائیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ بات جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہی۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا دورہ امریکہ کے دوران پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات متوقع ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی تجویز موجود نہیں۔

ان سے پوچھا گیا کہ کیا نئی دہلی میں پاکستان رینجرز اور بھارتی بی ایس ایف کمانڈرز کے درمیان آج ہونے والے مذاکرت کے بعد پاکستان کو توقع ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر واپس آجائیں گے۔

اس کے جواب میں دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مذاکرات پر پاکستان کا موقف واضح ہے اور حال ہی میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ ’ پاکستان پیشگی شرائط کے بغیر مذاکرات کے لیے تیار ہے، اور مذاکرات نہیں ہوں گے اگر ان میں کشمیر کو شامل نہیں کیا جائے گا۔‘

حال ہی میں جاری ہونے والے امریکی محکمہ خارجہ کے خفیہ مراسلے میں یہ انکشاف کیا گیا تھا کہ سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف سنہ 2002 میں بھارت سے مذاکرات کے لیے کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے موقف کو پس پشت ڈالنے پر تیار تھے۔

اسی حوالے سے کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ میڈیا کی کسی خبر پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کشمیر پر پاکستان کا موقف واضح ہے اور یہ بین القوامی طور پر ایک متنازع معاملہ ہے۔