بھارتی فوج کسی بھی مختصر جنگ کے لیے تیار ہے: جنرل سہاگ

،تصویر کا ذریعہPTI
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ نے کہا ہے کہ مستقبل میں ہونے والی جنگیں مختصر ہوں گی جن کی تیاری کے لیے زیادہ وقت نہیں ملے گا لیکن بھارتی فوج ایسی کسی بھی لڑائی کے لیے تیار ہے۔
انھوں نے یہ بات بھارت اور پاکستان کے درمیان 1965 کی جنگ کے 50 برس کی تکمیل پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
جنرل سہاگ نے یہ بھی کہا کہ گذشتہ کچھ عرصے میں شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرحد پار سے جموں و کشمیر میں شورش کو فروغ دینے اور تشدد کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جنرل دلبیر سہاگ نے الزام لگایا کہ ہمسایہ ملک کی جانب سے فائر بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے اور حال ہی میں شدت پسندوں کے حملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نئے علاقوں کو بھی تشدد کے دائرے میں شامل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس پس منظر میں انہوں نے کہ ’ہمیں احساس ہے کہ مستقبل کی جنگیں مختصر ہوں گی، اور محاذ پر جانے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملے گا، اس لیے ہر وقت پوری طرح تیار رہنے کی ضرورت ہے اور یہ تیاری اب ہماری آپریشنل حکمت عملی کا کلیدی حصہ ہے۔‘
جنرل سہاگ کے اس بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے لیڈر پرمود تیواری نے کہا کہ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ کیا وہ جنگ کی تیاری کر رہی ہے کیونکہ جنرل سہاگ کے بیان سے لوگ فکرمند ہیں۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے لیڈر مجید میمن نے کہا کہ لڑائی سے بچنے کی ہر قیمت پر کوشش کی جانی چاہیے کیونکہ اس سے سب کا نقصان ہوتا ہے لیکن حالات اگر بگڑ جائیں تو ضروری ہے کہ فوج صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار رہے۔
خیال رہے کہ بھارت میں 1965 کی جنگ کے پچاس سال مکمل ہونے کے موقع پر تین ہفتے طویل تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں اور پہلی مرتبہ حکومت اور فوج کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہےکہ اس جنگ میں جیت بھارت کی ہوئی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کے اس دعوے کو بہت سے دفاعی تجزیہ نگار یہ کہہ کر مسترد کر رہے ہیں کہ اس جنگ میں ہار جیت کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
جس سیمینار میں جنرل سہاگ نے مختصر جنگوں کی تیاری کی بات کہی اس میں وزیر دفاع منوہر پاریکر بھی موجود تھے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ 1965 کی جنگ میں اگرچہ بھارت کے پاس بہتر اسلحہ اور فوجی سازوسامان نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اس نے جنگ میں پاکستان کو شکست دی تھی۔
بھارت نے سنہ 1965 میں پاکستان کے ساتھ جنگ کے 50 برس مکمل ہونے پر تقریبات کا آغاز کر دیا ہے۔ بھارت اس جنگ میں فتح حاصل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔
تین ہفتوں تک جاری رہنے والی تقریبات کا آغاز صدر پرنب مکھر جی نے دارالحکومت دہلی میں دہلی گیٹ پر شہدا کی یادگار پر پھولوں کی چادر کی چڑھا کر کیا۔
دونوں ہمسایہ ملکوں میں جنگ کا آغاز پاکستان کی جانب سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 30 ہزار فوجی داخل کرنے سے ہوا تھا جس کے جواب میں بھارتی فوج نے بین الاقوامی سرحد سے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔
بھارت کی مغربی سرحدوں پر 17 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں بھارت کی ایک لاکھ فوج کا پاکستان کی 60 ہزار فوج سے مقابلہ تھا۔







