جنگ ستمبر کا جشن منانے کے فیصلے پرتنقید

پاکستان اور بھارت دونوں جنگ میں کامیابیوں کے دعوے کرتے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت دونوں جنگ میں کامیابیوں کے دعوے کرتے ہیں
    • مصنف, گیتا پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی

بھارت نے سنہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں اپنی’فتح‘ کا جشن منانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں ایک’ گرینڈ کارنیوال‘ سمیت کئی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔

تاہم ناقدین نے حکومت کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کوئی اچھا اقدام نہیں ہے اور پیسے کا ضیاع قرار دیا ہے۔

1965 میں دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ جنگ کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب پاکستان نے’ آپریشن جبرالٹر‘ کے نام سے خفیہ طور پر لائن آف کنٹرول کے راستے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں 30 ہزار جنگجو بھیجے۔ اس کے جواب میں بھارت نے لاہور کی بین الاقوامی سرحد پر حملہ کر دیا۔

تین ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں بھارت کے تقریباً ایک لاکھ جبکہ پاکستان کے 60 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا۔

بھارت کی وزارتِ دفاع کے ترجمان ستناشو کار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنگ میں ’فتح‘ کے جشن کی تقریبات 28 اگست کو شروع ہوں گی کیونکہ اسی تاریخ کو بھارتی فوج نے دفاعی لحاظ سے اہم درے ’حاجی پیر پاس‘ پر قبضہ کیا تھا۔

جنگ میں بھارت کے تقریباً ایک لاکھ اور پاکستان کے 60 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا
،تصویر کا کیپشنجنگ میں بھارت کے تقریباً ایک لاکھ اور پاکستان کے 60 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا

’تقریبات 22 ستمبر تک جاری رہیں گی، اسی دن دونوں ممالک اقوام متحدہ کے ذریعے جنگ بندی پر رضامند ہوئے تھے۔‘

ان تقریبات میں مرکزی ایونٹ 20 سمتبر کو راج پاتھ میں وکٹری کارنیوال یعنی فتح کا جلوس منعقد ہو گا جس میں فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

دارالحکومت دہلی کے راج پاتھ ہی میں یوم جمہوریہ کی پریڈ منعقد ہوتی ہے۔

تقریبات میں موسیقی، تصویری نمائش اور سیمیناروں کا انعقاد کیا جائے گا۔

سابق صحافی جتن گوکھالی کے مطابق 1965 کی جنگ کو لوگ بھول چکے ہیں اور ان تقریبات کا مقصد اس یاد کو تازہ کرنے کی کوشش ہے۔

پاکستان کی جانب سے بھارتی دعووں کی تصدیق کا جواب نہیں دیا گیا
،تصویر کا کیپشنپاکستان کی جانب سے بھارتی دعووں کی تصدیق کا جواب نہیں دیا گیا

جتن کو وزارتِ دفاع نے اس جنگ کے بارے میں ایک کتاب لکھنے کی ذمہ داری بھی سونپی ہے۔

جنگ میں بھارت پاکستان کے ایک دفاعی راستے حاجی پیر پاس پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے علاوہ سیالکوٹ کے محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں اور وہ لاہور کے قریب پہنچ گئی تھی۔

پاکستانی فوج نے لاہور کا دفاع کرتے ہوئے حملے کو پسپا کر دیا جبکہ اس نے راجھستان کے صحرا میں پیش قدمی کی اور وہ جموں کے علاقے اکھنور کے انتہائی قریب پہنچ گئی تھی۔

لیکن دونوں جانب سے حاصل کی جانے والی کامیابیاں زیادہ اہمیت کی حامل نہیں تھیں اور 1966 میں تاشقند میں کیے جانے ایک معاہدے کے تحت دونوں ممالک جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس جانے پر رضامند ہو گئے۔

اس کے بعد دونوں ممالک اس جنگ میں اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ پاکستان بھی ہر برس چھ ستمبر کو’یوم دفاع‘ مناتا ہے۔ دوسری جانب بھارت کا خیال ہے کہ اس کی فوج کو واضح برتری حاصل ہوئی تھی۔

جتن گوکھالی کے مطابق: ’یہ جنگ دو پہلوؤں سے اہمیت کی حامل تھی، پہلی یہ کہ اس کے نتیجے میں بھارت کی چین کے خلاف 1962 کی جنگ میں شرمناک شکست کا دھبہ دھل گیا اور اس کے ساتھ بھارتی فوج کو اپنی دفاعی صلاحیتوں کو جانچنے کا موقع ملا۔ اس سے فوج کا اعتماد ملا اور اسی کے نتیجے میں انھوں نے 1971 پاکستان سے جنگ جیتی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 1965 بھارت کے لیے بڑی فتح نہیں تھی لیکن کو یقیناً ایک محدود فتح کہا جا سکتا ہے۔

بھارت نے کبھی اپنی کس جنگ کا اتنے پیمانے پر جشن نہیں منایا تو اب فتح کا ایک بڑا کارنیوال کیوں؟

وازارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق: ’جنگ کو جیتے ہوئے 50 برس ہو گئے ہیں، اب اگر اس کا جشن نہیں منائیں گے تو پھر کب منائیں گے؟‘

بھارتی حکومت کے اس فیصلے پر تمام لوگوں نے گرم جوشی کا اظہار نہیں کیا۔ دہلی میں پولیس کے تحقیقاتی مرکز میں دفاعی امور کے ماہر سری ناتھ راگھوان کے مطابق ’وکٹری کارنیوال‘ ایک نامعقول تصور ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان تقریبات پر 55 لاکھ ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ ہے اور یہ پیسے کا ضیاع ہے۔

سری ناتھ راگھوان ریٹائرڈ فوج ہیں اور انھوں نے کارگل کے تنازعے میں پاکستان کے خلاف جنگ بھی لڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’یادگاری تقریبات جنگ جوئی پر مبنی نہیں ہونی چاہییں، ان میں جنگ میں سرحد پر فوجیوں اور شہریوں کی ضائع ہونے والی جانوں کو یاد کرنا چاہیے۔‘

اگرچہ پاکستان میں وکٹری کارنیوال پر تنقید کی جا رہی ہے کہ اس سے دو طرفہ بات چیت پر اثر پڑے گا لیکن اسلام آباد نے ابھی سرکاری طور پر وکٹری کارنیوال پر کوئی بیان نہیں دیا۔

راگھوان کا بھی خیال ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک ایسے وقت پر غیر ضروری طور پر ناخوشگواری پیدا ہو گی جب دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ وہ بات چیت کا عمل دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنگ کو یاد کرنے کا زیادہ اچھا طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اصل میں یہ جنگ کس وجہ سے ہوئی تھی تاکہ اس کے بارے میں صحیح معنوں میں بات چیت شروع ہو۔

پاکستان میں 1965 کی جنگ کی یاد میں ’یوم دفاع‘

پاکستان میں اب یوم دفاع اب روایتی جوش و خروش سے نہیں منایا جاتا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اب یوم دفاع اب روایتی جوش و خروش سے نہیں منایا جاتا

پاکستان اب بھی چھ ستمبر کو ’یوم دفاع‘ مناتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں اس میں پائی جانے والی روایتی گرم جوشی کم ہو گئی ہے۔

اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ 1965 کی جنگ دیکھنے والی نسل اب نہیں رہی، اس کے علاوہ گذشتہ دس برس کے دوران شدت پسندی کے خطرے کی وجہ سے فوجی پریڈوں اور عسکری ساز و سامان کی نمائش کو زیادہ نمایاں نہیں کیا جاتا۔

اس کے علاوہ پاکستان میں اس جنگ کے شروع ہونے اور وجوہات کے بارے میں پائے جانے والی دیگر آرا کو زیادہ تقویت ملی ہے۔ اس سے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ بھارت نے جنگ شروع کی تھی اور وہ لاہور پر قبضہ کرنا اور پاکستان کو توڑنا چاہتا تھا۔

تاہم حال ہی میں بعض بااثر سیاست دانوں اور مسلح افواج کے ارکان نے کھلے عام بیان دیے ہیں کہ بھارت کے خلاف تمام جنگوں کا آغاز پاکستان کی جانب سے ہوا تھا۔