پاکستان مخالف قرارداد رد کرنے پر بھارت کا چین سے احتجاج

کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ لکھوی کو پاکستان نے رواں سال اپریل کے مہینے میں رہا کر دیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنکالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ لکھوی کو پاکستان نے رواں سال اپریل کے مہینے میں رہا کر دیا تھا

اقوامِ متحدہ میں چین کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائی کی بھارتی قرارداد روکے جانے پر بھارت نے چین سے ’اعلیٰ ترین سطح‘ پر احتجاج کیا ہے۔

بھارت نے پاکستان میں ممبئی حملوں کے مقدمے کے ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے خلاف تادیبی کارروائی کی تجویز پیش کی تھی جسے چین کے اعتراض کی وجہ سے رد کر دیا گیا۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے ذكي الرحمان لکھوی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کے قانون نمبر 1267ویں کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے پابندیاں لگانے والی کمیٹی کے چیئرمین کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے کمیٹی کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ دو طرفہ سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’چین کی جانب سے کیے جانے والے اقدام پر بھارت نے یہ مسئلہ چین کے ساتھ اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر اٹھایا ہے۔‘

بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ’خود بھارتی وزیر ا‏عظم نریندر مودی نے اس مسئلے کو چینی قیادت کے سامنے رکھا ہے۔‘

بھارتی وزیر اعظم نے حال ہی میں چین سے روابط بہتر کرنے کی کوشش میں چین کا دورہ کیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیر اعظم نے حال ہی میں چین سے روابط بہتر کرنے کی کوشش میں چین کا دورہ کیا تھا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین کی جانب سے بھارت کی جس قرارداد پر مزید کارگزاری سے روکا گیا اس میں ممبئی حملوں کے مبینہ ذمہ دار شدت پسند ذكی الرحمان لکھوی کو رہا کرنے پر پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

یہ کارروائی شدت پسند تنظیموں اور ان سے منسلک شدت پسندوں پر پابندیاں عائد کرنے والی اقوام متحدہ کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ہوئی۔

اس 15 رکنی کمیٹی کا اجلاس بھارت کی درخواست پر بلایا گیا تھا جس میں پاکستان سے پوچھا جانا تھا کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے والے شخص ذکی الرحمان لکھوی کو جیل سے کیوں رہا کر دیا گیا۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اس رہائی سے کمیٹی کے قانون نمبر 1267 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

بھارت نے اپنی قرارداد میں یہ بھی یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی اس کمیٹی کے قانون پر عمل کرنا ہر رکن ملک کے لیے ضروری ہے۔

بھارت میں لکھوی کے علاوہ کئی دوسری پاکستانی شخصیات کے خلاف سنہ 2008 کے ممبئی حملموں میں مبینہ طور شامل ہونے پر غصہ پایا جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارت میں لکھوی کے علاوہ کئی دوسری پاکستانی شخصیات کے خلاف سنہ 2008 کے ممبئی حملموں میں مبینہ طور شامل ہونے پر غصہ پایا جاتا ہے

تاہم چین نے اس تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہندوستان نے اس معاملے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔ چینی مندوب کے اعتراض کے بعد کمیٹی کے سربراہ نے کارروائی معطل کر دی۔

پی ٹی آئي کے مطابق چین کے علاوہ اس کمیٹی کے تمام رکن ممالک نے بھارت کی تجویز کی حمایت کی تھی۔

خیال رہے کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے مستقل رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر پابندیاں لگانے والی کمیٹی کا بھی رکن ہے۔

کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ ذکی لکھوی کو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں واقع اڈيالہ جیل سے رواں برس اپریل کے مہینے میں رہا کر دیا گیا تھا۔

لکھوی کی رہائی پر امریکہ سمیت روس برطانیہ اور فرانس نے بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ امریکہ نے یہ بھی کہا تھا کہ لکھوی کو پھر سے گرفتار کیا جانا چاہیے۔

سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی اور انھیں سرانجام دینے کے الزام میں لکھوی کو سنہ 2008 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔