پاکستان مخالف قرارداد رد کرنے پر بھارت کا چین سے احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty
اقوامِ متحدہ میں چین کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائی کی بھارتی قرارداد روکے جانے پر بھارت نے چین سے ’اعلیٰ ترین سطح‘ پر احتجاج کیا ہے۔
بھارت نے پاکستان میں ممبئی حملوں کے مقدمے کے ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی پر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے خلاف تادیبی کارروائی کی تجویز پیش کی تھی جسے چین کے اعتراض کی وجہ سے رد کر دیا گیا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے ذكي الرحمان لکھوی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کے قانون نمبر 1267ویں کی خلاف ورزی کا معاملہ اٹھایا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے پابندیاں لگانے والی کمیٹی کے چیئرمین کو اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے کمیٹی کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ دو طرفہ سطح پر بھی یہ معاملہ اٹھایا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’چین کی جانب سے کیے جانے والے اقدام پر بھارت نے یہ مسئلہ چین کے ساتھ اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر اٹھایا ہے۔‘
بھارتی خبر رساں ادارے پی ٹی آئی نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ’خود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس مسئلے کو چینی قیادت کے سامنے رکھا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن چین کی جانب سے بھارت کی جس قرارداد پر مزید کارگزاری سے روکا گیا اس میں ممبئی حملوں کے مبینہ ذمہ دار شدت پسند ذكی الرحمان لکھوی کو رہا کرنے پر پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
یہ کارروائی شدت پسند تنظیموں اور ان سے منسلک شدت پسندوں پر پابندیاں عائد کرنے والی اقوام متحدہ کی کمیٹی کے اجلاس کے دوران ہوئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس 15 رکنی کمیٹی کا اجلاس بھارت کی درخواست پر بلایا گیا تھا جس میں پاکستان سے پوچھا جانا تھا کہ ممبئی حملوں کے سلسلے میں گرفتار کیے جانے والے شخص ذکی الرحمان لکھوی کو جیل سے کیوں رہا کر دیا گیا۔
بھارت کا کہنا ہے کہ اس رہائی سے کمیٹی کے قانون نمبر 1267 کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔
بھارت نے اپنی قرارداد میں یہ بھی یاد دلایا کہ سلامتی کونسل کی اس کمیٹی کے قانون پر عمل کرنا ہر رکن ملک کے لیے ضروری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
تاہم چین نے اس تجویز کو یہ کہہ کر رد کر دیا کہ ہندوستان نے اس معاملے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔ چینی مندوب کے اعتراض کے بعد کمیٹی کے سربراہ نے کارروائی معطل کر دی۔
پی ٹی آئي کے مطابق چین کے علاوہ اس کمیٹی کے تمام رکن ممالک نے بھارت کی تجویز کی حمایت کی تھی۔
خیال رہے کہ چین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے مستقل رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر پابندیاں لگانے والی کمیٹی کا بھی رکن ہے۔
کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے 55 سالہ ذکی لکھوی کو پاکستان کے شہر راولپنڈی میں واقع اڈيالہ جیل سے رواں برس اپریل کے مہینے میں رہا کر دیا گیا تھا۔
لکھوی کی رہائی پر امریکہ سمیت روس برطانیہ اور فرانس نے بھی تشویش ظاہر کی تھی۔ امریکہ نے یہ بھی کہا تھا کہ لکھوی کو پھر سے گرفتار کیا جانا چاہیے۔
سنہ 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی اور انھیں سرانجام دینے کے الزام میں لکھوی کو سنہ 2008 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان حملوں میں 166 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔







