نواز مودی دہلی سے اوفا تک

،تصویر کا ذریعہPID
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی نے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے میں ملاقات کرنے میں تقریباً 14 ماہ لگائے۔
روسی شہر اوفا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد تعلقات میں بہتری کی امیدیں ایک بار پھر پیدا ہوئی ہیں۔
ماضی میں ایسے کئی مواقع آئے جب دونوں ہسمایوں نے اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے عہد کیے لیکن یہ کبھی وفا نہیں ہو سکے۔
ان میں پہلے کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے معاملات خراب ہونے کا تاثر ملتا تھا پھر بات دہشت گردی کے مسئلے پر آ کر رک جاتی۔
ہم ماضی میں کی جانے والی کوششوں کی تفصیل میں جانے کی بجائے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد تعلقات میں بہتری کی کوششوں اور تلخیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
2013 عام انتخابات میں وزیراعظم نواز شریف نے ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے بھارت سے تعلقات کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ بھارت میں 2014 کے انتخابات میں نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا اور دونوں رہنماؤں کی دہلی میں ملاقات ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
<link type="page"><caption> وزیراعظم مودی کی تقریب حلف برد</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/05/140527_modi_nawaz_states_fz" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ا</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/05/140527_modi_nawaz_states_fz" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ری میں وزیراعظم نواز شریک ہوئے اور دونوں کی 27 مئی کو ملاقات ہوئی جس میں مودی نے دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کیا تو نواز شریف نے محاذ آرائی چھوڑنے پر اصرار کیا تھا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/05/140527_modi_nawaz_states_fz" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سیکریٹری خارجہ سطح پر رابطے قائم رکھنے پر اتفاق کیا اور اس کے علاوہ بات آگے نہیں بڑھ سکی بلکہ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2014/06/140613_modi_writes_letter_to_nawaz_zz" platform="highweb"/></link> دو ماہ بعد ہی اس سے بھی پیچھے چلی گئی <link type="page"><caption> جب 12 اگست کو وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے دورے کے دوران پاکستان پر در پردہ جنگ کا الزام اس وقت عائد کی</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2014/08/140812_modi_second_kashmir_visit_mb" platform="highweb"/></link>ا جب دونوں رہنماؤں کے درمیان خطوط اور تحائف کے تبادلوں کے برعکس لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ ایک وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو چکا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
<link type="page"><caption> اس کے بعد 18 اگست کو بھارت میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کی تو اس کے ردعمل میں بھارت نے 25 اگست سے سیکریٹری سطح کے مجوزہ مذاکرات کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/08/140818_india_calls_off_talks_gh" platform="highweb"/></link>
اسی دوران پاکستان میں عمران خان اور طاہر القادری کے اسلام آباد میں دھرنوں کا آغاز ہو چکا تھا جس کی وجہ سے مسلم لیگ ن کی حکومت اندرونی دباؤ کا شکار ہوئی اور بات جنرل راحیل شریف سے مدد مانگنے تک جا پہنچی۔ ان حالات میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات مزید معدوم ہو گئے <link type="page"><caption> البتہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر وزیراعظم مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو خط ضرور لکھا اور مدد کی پیشکش بھی کی۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/09/140909_nawaz_modi_assistance_letters_mb" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> اسی ماہ 27 ستمبر کو ملک میں سیاسی عدم استحکام سے دوچار وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کشمیر کے تنازعے پر کھل کی بات کی اور بھارت کی امن کی کوشش میں سنجیدہ نہ ہونے پر تنقید کی جبکہ بھارتی وزیراعظم مودی نے کہا کہ پاکستان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں تاہم پاکستان کو اس کے لیے تشدد سے پاک ماحول مہیا کرنا ہو گا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان نیویارک میں اس موقعے پر ملاقات نہیں ہو سکی۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/09/140926_nawaz_un_kashmir_dispute_zz" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہAFP
<link type="page"><caption> اس کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان باضابط ملاقات کا موقع نومبر نیپال کے دارالحکومت کٹ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/11/141127_pak_india_relations_zz" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> ھ</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/11/141127_pak_india_relations_zz" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> منڈو میں سارک کانفرنس کے دوران آیا لیکن اس اجلاس سے پہلے پاکستان نے کشمیر کے مسئلے پر اپنے موقف میں سختی لائے اور دونوں رہنماؤں کے درمیان بات مصافحے اور چند جملوں کے تبادلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/11/141127_pak_india_relations_zz" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بات نواز مودی مصافحے سے آگے بڑھےگی؟</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/11/141127_pak_india_relations_zz" platform="highweb"/></link>
اس سے آگے ہی ماہ دسمبر میں پاکستان کے شہر پشاور میں فوجی سکول پر طالبان کے حملے میں بچوں سمیت 140 سے زائد افراد مارے گئے اور اس کے بعد ملک کی صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی۔ عمران خان نے اپنے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کیا تو اس ساتھ میں ملک میں شدت پسندی کے خلاف قومی ایکشن پلان سامنے آیا اور قومی معاملات میں فوج کے کردار میں مزید اضافہ ہوا۔
<link type="page"><caption> اس واقعے کی بھارتی وزیراعظم مودی نے مذمت کی اور فروری میں انھوں نے وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر بات بھی کی اور اسی کے نتیجے میں ایک پیش رفت اس وقت ہوئی جب مارچ کے پہلے ہفتے میں بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر نے اسلام آباد کا دو روزہ دورہ کیا اور کہا کہ سرحدوں پر امن قائم رکھنا انتہائی ضروری ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/03/150303_india_foreign_sec_pak_zs" platform="highweb"/></link>
پاکستان اور چین میں اقتصادی راہداری کا معاہدہ اور ’را‘ کی سرگرمیاں

،تصویر کا ذریعہAP
<link type="page"><caption> اس دورے کو پیش رفت کہا گیا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ سے کشیدہ ہوتے چلے گئے جس میں اپریل میں پاکستان نے پہلے ممبئی حملہ کیس میں گرفتار ذکی الرحمان لکھوی کو رہا کر دیا اور اس پر بھارت نے احتجاج کیا اور معاملے کو سکیورٹی کونسل میں اٹھانے کا اعلان کر دیا اور پاکستان نے مئی میں سفارتی سطح پر بھارتی اینٹیلجنس ایجنسی ’را‘ پر الزام عائد کیا کہ یہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150514_pakistan_fo_briefing_zh" platform="highweb"/></link>
دونوں ملکوں کے درمیان سیکریٹری خارجہ سطح پر مذاکرات کے بعد الزام تراشیوں کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب 20 اپریل کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری سے متعلق معاہدے طے پائے اور کراچی میں بلوچستان میں جاری شورش سے متعلق کراچی میں ایک سیمینار کے بعد سماجی کارکن سبین محمود کا قتل ہوا۔
<link type="page"><caption> پانچ مئی کو بّری فوج کے کور کمانڈروں کے اجلاس میں پہلی بار فوج کی جانب سے کھلے عام بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ملکی معاملات میں مداخلت کا تشویش کا اظہار کیا گیا اور اس کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں را کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/05/150505_army_raw_notice_sr" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ان الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امیدیں دم توڑ گئیں اور اگلے ماہ جون میں بنگلہ دیش کے دورے پر گئے ہوئے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے اس بیان نے، کہ بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی، پاکستان میں ایک طوفان برپا ہو گیا اور مودی کے خلاف قومی اسمبلی میں قراداد منظور کی گئی اور بھارتی وزیراعظم کے بنگلہ دیش سے متعلق بیان کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کا اعلان بھی کیا گیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/06/150607_india_bangla_pm_award_zh" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہAFP
<link type="page"><caption> اس سے پہلے بھارتی وزیراعظم چین کے دورے پر گئے تھے اور انھوں نے پاک چین اقتصادی راہداری پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا جبکہ وزیراعطم نواز شریف کے مطابق چین نے بھارتی تحفظات کو مسترد کر دیا تھا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150602_pak_reaction_india_pcec_zs" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> ابھی یہ معاملہ ٹھنڈا ہوا ہی نہیں تھا کہ بھارتی وزیرِ مملکت برائے اطلاعات و نشریات راجيہ وردھن سنگھ راٹھور نے برمی سرحد کے اندر بھارتی فوج کی کارروائی کو پاکستان سمیت ان دوسرے ممالک کے لیے ایک پیغام قرار دیا جہاں بھارت مخالف شدت پسند نظریات والے لوگ بستے ہیں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/06/150611_india_pakistan_tension_nj" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بھارتی وزیرِ مملکت کے بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور اس کسی بھی ممکنہ جارحیت کی صورت میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی باتیں بھی کی گئیں۔ جون میں ہی امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر کوششیں شروع کی اور امریکی وزیر خارجہ نے صورت حال پر وزیراعظم نواز شریف سے ٹیلی فون پر بات کی اور اس کے بعد وزیراعظم مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات کی اور ماہِ رمضان کے آغاز کی مبارکباد دی اور اس سے برف تھوڑی پگھلی۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150616_pak_india_us_diplomacy_zz" platform="highweb"/></link>

،تصویر کا ذریعہAFP
<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/06/150616_pak_india_us_diplomacy_zz" platform="highweb"/></link>اسی دوران پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی بھارت سے مالی و عسکری تعلقات کے خبریں نمایاں رہیں اور اس کے ساتھ پاکستان کی افغانستان میں قیامِ امن کے لیے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی خبروں کا تذکرہ رہا۔
اس کے بعد جولائی میں بھارتی وزیراعظم اور وزیراعطم نواز شریف کی روسی شہر اوفا میں ملاقات ہوئی ہے۔ یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقعے پر ہوئی۔ اس تنظیم کے دو اہم رکن ممالک چین اور روس دونوں خطے میں امن چاہتے ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت دونوں اس تنظیم کے مستقل رکن بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس ملاقات کو عالمی دباؤ کا نتیجہ بھی کہہ جا سکتا ہے مگر وجہ کوئی بھی ہو، یہ ایک مثبت قدم ہے۔ تاہم اس بار دیکھنا ہے کہ حالیہ گرمجوشی کتنی دیر تک جاری رہتی ہے اور کیا خطے میں دو ہمسایوں کے درمیان دوستانہ تعلقات پر اختتام پذیر ہو گی یا پھر 1947 سے اب تک کے تعلقات کے دائرے میں پھر سے صفر پر انجام پذیر ہو گی۔
<link type="page"><caption> اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے مشترکہ اعلامیے میں ایک نکتے کی شاید کمی تھی اور وہ یہ تھی کہ دو دن پہلے ہی پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں افغان طالبان اور افغان حکومت کے دفود کے درمیان مذاکرات میں اتفاق کیا گیا تھا کہ فریقین نے بات چیت جاری رہنے تک ایک دوسرے کے خلاف کسی بڑی کارروائی نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے تاہم دونوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس دوران ناراض عناصر یا اس عمل کے مخالفین کی جانب سے ایک آدھ حملے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150710_nawaz_modi_meeting_in_ufa_hk" platform="highweb"/></link>
اب دونوں ممالک اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ ناراض عناصر کون سے ہو سکتے ہیں۔۔۔







