جنگی قیدی کی ہلاکت پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کی خواہش

،تصویر کا ذریعہAP
بھارت کارگل کی جنگ میں اپنی فوج کے افسر کیپٹن کالیا کو ’جنگی قیدی بنا کر اذیتیں دینے‘ کے معاملے میں پاکستان کے خلاف بین الاقوامی عدالت انصاف کا رخ کرنا چاہتا ہے۔
سنہ 1999 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی کارگل کی جنگ میں پاکستان نے کیپٹن سوربھ کالیا اور ان کے ساتھیوں کی لاشیں ہندوستان کے سپرد کی تھی۔
بھارت کا الزام ہے انھیں پاکستانی فوج نے قیدی بناکر اذیتیں دیں تھیں جو کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی تھی۔
کانگریس کی سربراہی والی یو پی اے اور پھر بی جے پی کی سربراہی والی این ڈی اے کی حکومتوں نے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا تھا جس میں دنوں حکومتوں نے کہا تھا کہ بھارت اس معاملے کو بین الاقوامی عدالت میں نہیں لے جائے گا۔
تاہم اب بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ ’یہ طے شدہ امر ہے کہ کیپٹن کالیا کو ان کی موت سے پہلے اذیتیں دی گئی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہEPA
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ چونکہ استثنیٰ کے زمرے میں ہے اس لیے حکومت سپریم کورٹ میں حلف نامہ بدلے گی اور عدالت سے یہ اپیل کرے گی کہ وہ ہمیں انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس جانے کی اجازت دے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’دولت مشترکہ کا رکن ہونے کی وجہ سے اب تک ہندوستان اور پاکستان دونوں ہی حکومتوں کا یہ رویہ رہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے خلاف آئی سی جے میں درخواستیں نہ دیں۔‘
کیپٹن کالیا کی والدہ کا کہنا ہے حکومت جب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھاتی اس وقت تک انھیں کسی کارروائی پر بھروسہ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیپٹن کالیا کے والدین کا الزام ہے کہ اس سے پہلے بھی سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے ممکنہ اقدام کی یقین دہانی کرائی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP Getty Images
بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی فوج کے كپٹن سوربھ کالیا اور ان کی گشتی پارٹی کے پانچ فوجیوں کو 15 مئی سنہ 1999 کو پاکستانی فوجیوں نے پکڑ لیا تھا۔
اس کے بعد ان کی ’مسخ شدہ لاش‘ بھارتی فوج کو سونپی گئی تھی۔ مبینہ طور پر انھیں کئی دنوں تک حراست میں رکھا گیا اور اذیتیں دی گئیں۔
کیپٹن کالیا کے والد نے سنہ 2012 میں سپریم کورٹ میں اپنے بیٹے کی موت کو جنگی جرائم کے زمرے میں رکھتے ہوئے پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔







