فوجی سربراہ نے تعصب کا مظاہرہ کیا‘

ہندوستان میں فوجی ٹرائبیونل کا کہنا ہے کہ کرگل جنگ کے ایک فوجی سربراہ نے ذاتی تعصب اور غیر جانب دارانہ رویہ کی وجہ سے ایک برگیڈیئر کی قیادت میں حاصل کامیابوں کو غلط روشنی میں پیش کیا تھا۔
ٹرائبیونل کا کہنا ہے کہ 1999 کی کرگل جنگ کے دوران انفینٹری برگیڈیر دیوندر سنگھ کی قیادت میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی تھیں لیکن فوجی سربراہ کے ذاتی تعصب کی وجہ سے ان کامیابوں کو کسی اور کمانڈر کی کامیابی کے طور پر پیش کیاگیا تھا۔ ٹرائبینول کا کہنا ہے برگیڈر دیوندر سنگھ کے بدلے ایک افسانوی ہیڈکوارٹر کمانڈر کے نام پر ان کامیابوں کو درج کرایا گیا تھا۔
ٹرائبیونل نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ کرگل جنگ کے ریکارڈز کو دوبارہ لکھا جائےاور ریٹائرڈ برگیڈر دیوندر سنگھ کو میجر جنرل کا عہدہ دیا جائے۔
ٹرائبیونل کے سربراہ جسٹس اے کے ماتھر نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سالانہ کونفیڈینشیل رپورٹ ( اے سی آر) غیرجانبدارانہ انداز میں نہیں لکھی گئی تھی۔
ریٹائرڈ برگیڈر دیوندر سنگھ نے ہائی کورٹ میں اپنی درخواست دی تھی۔ ہائی کورٹ نے معاملے کی سماعت کا کام آرمڈ فورسز ٹرائبینول کو سونپ دیا تھا۔
ذرائع ابلاغ میں شائع ہونی والی خبروں کے مطابق فوجی ٹرائبینول کے سامنے کرگل جنگ سے متعلق متعدد شکایات زیر غور ہیں اور برگیڈر دیوندر سنگھ کا پہلا معاملہ ہے جس کے بارے میں فیصلہ آیا ہے اور ایسے انکشاف ہوئے جس نے فوج کو شرمندہ کردیا ہے۔



