پاکستانی و بھارتی حکام کی اہم ملاقاتیں

1999 سے 2015 تک اہم پاکستانی و بھارتی حکام کب اور کہاں ملے

نواز شریف نے سنہ 1998 میں امریکہ میں ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو پاکستان آنے کی دعوت دی جسے قبول کرتے ہوئے وہ 20 فروری 1999 کو بذریعہ دوستی بس لاہور پہنچے اور معاہدۂ لاہور پر دستخط کیے جس میں دونوں ممالک نے علاقائی امن کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ روکنے پر اتفاق کیا۔
،تصویر کا کیپشننواز شریف نے سنہ 1998 میں امریکہ میں ملاقات کے دوران بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو پاکستان آنے کی دعوت دی جسے قبول کرتے ہوئے وہ 20 فروری 1999 کو بذریعہ دوستی بس لاہور پہنچے اور معاہدۂ لاہور پر دستخط کیے جس میں دونوں ممالک نے علاقائی امن کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ روکنے پر اتفاق کیا۔
1999 میں نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سنبھالنے والے فوجی صدر پرویز مشرف جولائی 2001 میں بھارت کے دورے پر گئے اور آگرہ میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے ملاقات کی۔ اس دورے کے دوران جوہری ہتھیاروں میں کمی، کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی جیسے معاملات زیرِ بحث تو آئے لیکن یہ مذاکرات ناکام رہے اور آگرہ معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
،تصویر کا کیپشن1999 میں نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے نتیجے میں اقتدار سنبھالنے والے فوجی صدر پرویز مشرف جولائی 2001 میں بھارت کے دورے پر گئے اور آگرہ میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی سے ملاقات کی۔ اس دورے کے دوران جوہری ہتھیاروں میں کمی، کشمیر اور سرحد پار دہشت گردی جیسے معاملات زیرِ بحث تو آئے لیکن یہ مذاکرات ناکام رہے اور آگرہ معاہدے پر اتفاق نہ ہو سکا۔
جنوری 2004 میں بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جنوبی ایشیا کے ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے 12ویں سربراہ اجلاس کے موقع پر اسلام آباد آئے اور اپنے پاکستانی ہم منصب ظفر اللہ جمالی سے بھی ملے۔ ان کے اس دورے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع معاملات پر بات چیت کے آغاز کی وجہ سے تاریخی قرار دیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنجنوری 2004 میں بھارت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی جنوبی ایشیا کے ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے 12ویں سربراہ اجلاس کے موقع پر اسلام آباد آئے اور اپنے پاکستانی ہم منصب ظفر اللہ جمالی سے بھی ملے۔ ان کے اس دورے کو پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع معاملات پر بات چیت کے آغاز کی وجہ سے تاریخی قرار دیا گیا۔
نومبر 2004 میں پاکستان کے وزیراعظم نے بھارت کا جوابی دورہ کیا تاہم اس وقت پاکستان میں یہ منصب شوکت عزیز اور بھارت میں منموہن سنگھ کے پاس تھا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بات چیت میں تیزی لانے کا اعلان کیا تھا۔
،تصویر کا کیپشننومبر 2004 میں پاکستان کے وزیراعظم نے بھارت کا جوابی دورہ کیا تاہم اس وقت پاکستان میں یہ منصب شوکت عزیز اور بھارت میں منموہن سنگھ کے پاس تھا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بات چیت میں تیزی لانے کا اعلان کیا تھا۔
پاکستان کے صدر پرویز مشرف اپریل 2005 میں بھارت گئے اور وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی جس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں امن عمل کو ناقابلِ واپسی قرار دیتے ہوئے کشمیر کے دونوں حصوں میں ٹرانسپورٹ روابط بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے صدر پرویز مشرف اپریل 2005 میں بھارت گئے اور وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کی جس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں امن عمل کو ناقابلِ واپسی قرار دیتے ہوئے کشمیر کے دونوں حصوں میں ٹرانسپورٹ روابط بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔
سنہ 1987 میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاالحق کی جے پور میں ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کی گونج سنہ 2011 میں اس وقت دوبارہ سنائی دی جب 30 مارچ کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی دونوں ٹیموں کے مابین ورلڈ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے موہالی جا پہنچے۔
،تصویر کا کیپشنسنہ 1987 میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ضیاالحق کی جے پور میں ’کرکٹ ڈپلومیسی‘ کی گونج سنہ 2011 میں اس وقت دوبارہ سنائی دی جب 30 مارچ کو اس وقت کے وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی دونوں ٹیموں کے مابین ورلڈ کپ کا سیمی فائنل دیکھنے موہالی جا پہنچے۔
پیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار کے پانچ برس میں وزیراعظم پاکستان کے علاوہ اس وقت ملک کے صدر آصف زرداری بھی بھارت گئے۔ اپریل 2012 میں ہونے والے اس ایک روزہ دورے کو اگرچہ نجی قرار دیا گیا تھا تاہم انھوں نے ظہرانے پر بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ یہ سنہ 2005 کے بعد کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا پہلا دورۂ بھارت تھا۔
،تصویر کا کیپشنپیپلز پارٹی کے دورِ اقتدار کے پانچ برس میں وزیراعظم پاکستان کے علاوہ اس وقت ملک کے صدر آصف زرداری بھی بھارت گئے۔ اپریل 2012 میں ہونے والے اس ایک روزہ دورے کو اگرچہ نجی قرار دیا گیا تھا تاہم انھوں نے ظہرانے پر بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کی تھی۔ یہ سنہ 2005 کے بعد کسی پاکستانی سربراہِ مملکت کا پہلا دورۂ بھارت تھا۔
جولائی 2011 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل پر وزارتی سطح کے مذاکرات کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں نے نئی دہلی میں ملاقات کی ہے۔ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے ملاقات میں باہمی مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے بعد اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
،تصویر کا کیپشنجولائی 2011 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل پر وزارتی سطح کے مذاکرات کے سلسلے میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹریوں نے نئی دہلی میں ملاقات کی ہے۔ پاکستان کی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے ملاقات میں باہمی مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے بعد اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا۔
پاکستان میں گذشتہ برس اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب سے پہلی ملاقات ستمبر 2013 میں ہوئی جب وہ اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملے۔ یہ ملاقات بھارتی یا پاکستانی سرزمین پر نہیں بلکہ امریکہ میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستان میں گذشتہ برس اقتدار سنبھالنے کے بعد نواز شریف کی اپنے بھارتی ہم منصب سے پہلی ملاقات ستمبر 2013 میں ہوئی جب وہ اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملے۔ یہ ملاقات بھارتی یا پاکستانی سرزمین پر نہیں بلکہ امریکہ میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہوئی۔
پاکستانی وزیرخارجہ سرتاج عزیز کے بھارت کے تین روزہ دورے کے دوران دہلی کے قریب گڑگاؤں میں بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید سے ملاقات کی۔
،تصویر کا کیپشنپاکستانی وزیرخارجہ سرتاج عزیز کے بھارت کے تین روزہ دورے کے دوران دہلی کے قریب گڑگاؤں میں بھارتی وزیرخارجہ سلمان خورشید سے ملاقات کی۔
 میاں نواز شریف پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جو ہمسایہ ملک بھارت کے کسی وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے پہنچے۔ بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور 17 مئی 2014 کو ان سے ملاقات کے موقع پر نواز شریف نے تعلقات وہیں سے دوبارہ شروع کرنے کی بات کی جہاں انھوں نے 1999 میں اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے اختتام پر چھوڑے تھے۔
،تصویر کا کیپشن میاں نواز شریف پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہیں جو ہمسایہ ملک بھارت کے کسی وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے پہنچے۔ بھارت کے نومنتخب وزیراعظم نے ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا اور 17 مئی 2014 کو ان سے ملاقات کے موقع پر نواز شریف نے تعلقات وہیں سے دوبارہ شروع کرنے کی بات کی جہاں انھوں نے 1999 میں اپنے گذشتہ دورِ حکومت کے اختتام پر چھوڑے تھے۔
کھٹمنڈو میں منعقدہ سارک کانفرنس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان وزیراعظم نواز شریف کے درمیان بھی ملاقات ہوئی، تاہم اس ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے درمیان بڑھنے والے سرحدی تناؤ کے اثرات دیکھے جاسکتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنکھٹمنڈو میں منعقدہ سارک کانفرنس کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان وزیراعظم نواز شریف کے درمیان بھی ملاقات ہوئی، تاہم اس ملاقات سے قبل دونوں ممالک کے درمیان بڑھنے والے سرحدی تناؤ کے اثرات دیکھے جاسکتے تھے۔
جولائی 2015 میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی نے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں کی۔ روسی شہر اوفا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد تعلقات میں بہتری کی امیدیں ایک بار پھر پیدا ہوئیں جس کے بعد اگست میں سلامتی امور کی مشیروں کی ملاقات نئی دہلی میں ہونا طے پایا گیا تھا۔
،تصویر کا کیپشنجولائی 2015 میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھارتی ہم منصب نریندر مودی نے دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں کی۔ روسی شہر اوفا میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد تعلقات میں بہتری کی امیدیں ایک بار پھر پیدا ہوئیں جس کے بعد اگست میں سلامتی امور کی مشیروں کی ملاقات نئی دہلی میں ہونا طے پایا گیا تھا۔