مذاکرات کی معطلی پر کشمیریوں میں مایوسی

بھارت اور پاکستان کے درمیان قومی سلامتی کے مشیروں کی سطح پر ہونے والی بات چیت منسوخ ہونے پر بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں لوگوں نے سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔
کشمیریوں کی اکثریت نے مذاکرات میں شرائط عائد کرنے پر بھارتی حکومت پر شدید تنقید کی ہے۔
سرینگر کے طالب علم یاسین قریشی نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نہیں چاہتا کہ عالمی برادری کشمیریوں کی خواہش اور رائے جان سکے۔
انھوں نے بی بی سی سے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں بھارت کشمیر کے لوگوں کو شامل نہیں کرنا چاہتا کیونکہ وہ جموں و کشمیر پرانے تنازعے کو حل نہیں کرنا چاہتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’بھارت اگر مسئلہ کشمیر پر بات کرے گا تو اُسے اُن پر کارروائیوں پر جواب دینا پڑے گا جو وہ کشیمر میں کر رہا ہے۔‘

کشیمر کے صحافی جنید راٹھور نے کہا کہ ’پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مسئلہ کشمیر انتہائی اہم ہے۔ لہذا دونوں ملک سیکورٹی یا امن پر بات کرتے ہیں تو انھیں کشمیر کو تو شامل کرنا ہی پڑے گا۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ ’کشمیر کا مسئلے کا تصفیہ تلاش کیے بغیر دونوں ممالک کے درمیان امن دیر پا نہیں ہو سکتا۔‘
جنوبی کشیمر میں واقع اسلام آباد کے ایک کالج میں پڑھانے والے استاد زاہد مقبول کے خیال میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل کے تعطل سے کشمیر کے نوجوانوں میں بنیاد پرستی بڑھے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وہ کہتے ہیں کہ ’اس معاملے پر مودی حکومت کے شور شرابے سے بھارت کے خود کو بڑا بھائی کہنے والی دہنیت اجاگر ہوتی ہے کیونکہ حکومت نے پہلے خود حرّیت رہمناؤں سے بات کی ہے۔‘

کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے ایک کھلاڑی اشفاق احمد کو مشیر سلامتی کی سطح پر ہونے والی بات چیت سے کوئی خاص امیدیں وابستہ نہیں تھیں۔
انھوں نے کہا کہ ’کیا اس سے پہلے دونوں ممالک کے رہنماؤں اور افسروں نے کئی مسائل پر بات نہیں کی ہے؟ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک میں کوئی بھی کشمیر کے معاملے پر سنجیدہ نہیں ہے۔‘
سرینگر کے لال چوک میں کام کرنے والی نحجت کہتی ہیں کہ امن اور استحکام کے لیے پاکستان اور بھارت کو بات چیت کرنی ہی ہوگی۔

بلال احمد چدورا بڈگام کے رہائشی ہیں اور مذاکرات کی منسوخی پر بہت ناراض ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ ’اگر بھارت واقعی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو اسے پاکستانیوں کے حرّیت رہنماؤں سے ملاقات کو اتنا بڑا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے۔‘
کشیمر کے علاقے پلوامہ کے رہائشی شبیر احمد اس بات سے ناراض ہیں کہ پاکستان بات چیت کے موقع مسلسل گنوا رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان اگر آج دوسرے مسائل پر بات کرتا تو کل وہ کشمیر مسئلہ بھی اٹھا سکتا ہے۔ علاقے میں طویل امن قائم کرنے کی سمت میں یہ بات چیت ایک اہم قدم ہو سکتی تھی لیکن پاکستان ضد پر اڑا ہوا ہے۔‘

بارہ مولہ کی سميرن کور کا کہنا ہے کہ حرّیت رہنماؤں کو بات چیت کی دے کر پاکستان نے غلط کیا ہے۔ایک ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان سرحدی علاقے میں جھڑپیں بڑھ رہی ہیں، ایسے میں حرّیت رہنماؤں کو مسئلہ نہیں بنانا چاہئے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’پاکستان ان مسائل پر بات کیوں نہیں کر سکتا، جو فی الحال زیادہ ضروری ہے. وہ کیوں حریت سے بات کرنے پر زور دیتا ہے جبکہ انتخابات میں کشمیر کے عوام نے دوسرے لوگوں کو منتخب کیا ہے۔‘







