’بھارتی شرائط پر مشیران کی بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں‘

،تصویر کا ذریعہTHINKSTOCK

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی جانب سے پیشگی شرائط کے بعد دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی دہلی میں مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

پاکستان کے اس بیان کے فوری بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے ٹوئٹر پر اپنے پیغامات میں کہا ہے کہ پاکستان کا یہ فیصلہ بدقسمتی ہے اور بھارت نے کوئی پیشگی شرائط نہیں رکھی تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ’ہم نے صرف اس بات کو دہرایا تھا کہ شملہ اور اوفا معاہدوں کی روح کا خیال رہے جس پر دونوں پہلے سے متفق ہیں۔‘

<link type="page"><caption> ’کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کو تیار ہوں‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150822_sartaj_aziz_press_on_nsa_meeting_sr.shtml" platform="highweb"/></link>

سنیچر کو پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کی جانب سے کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کے اعلان کے بعد بھارتی وزیر خارجہ نے دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دہلی میں حریت رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے اور بات چیت کا دائرہ کار دہشت گردی تک ہی محدود رکھنے کی یقین دہانی کے بعد ہی قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات ممکن ہو سکیں گے۔

انھوں نے پاکستان کو یہ یقین دہانیاں کروانے کے لیے سنیچر کی رات تک کی مہلت دی تھی۔

 بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ کی ٹوئٹ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

سنیچر کی شب پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ردعمل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے اس موقف کو دہرا رہا ہے کہ بھارت کی جانب سے عائد کی گئی شرائط کی بنیاد پر دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات ممکن نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ <link type="page"><caption> سشما سوراج کی نیوز کانفرنس</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150822_india_pak_nsa_talks_would_continue_mb.shtml" platform="highweb"/></link> سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر دہلی میں دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات ان شرائط کی بنیاد پر ہوتی ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ مدِنظر رکھتے ہوئے کہ دہشت گردی کے ایسے کئی واقعات جن میں بھارت کی جانب سے پاکستانی پر الزامات لگائے گئے جعلی ثابت ہوئے، یہ ممکن ہے کہ بھارت ایک، دو واقعات گھڑ کر اور ایل او سی پر محاذ گرم رکھ کر مذاکرات کی بحالی کو غیر معینہ مدت کے لیے ٹال دے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ پاک بھارت جامع مذاکرات کا ہمیشہ سے حصہ رہا ہے اور سیکریٹری سطح کی بات چیت میں بھی اس پر ہمیشہ بات ہوتی رہی ہے۔ اس لیے یہ غیر مناسب ہے کہ بھارت اب یکطرفہ طور پر فیصلہ کرے کہ دہشت گردی پر بات چیت اور اس کے خاتمے کے بعد ہی دیگر معاملات پر بات ہو سکتی ہے۔

سشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی بات چیت میں کسی تیسرے فریق کی موجودگی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہap

،تصویر کا کیپشنسشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی بات چیت میں کسی تیسرے فریق کی موجودگی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ’پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی بات چیت کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی اور اعتماد کی بحالی ہے۔ اگر قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات کا واحد مقصد دہشت گردی پر بات کرنا ہے تو اس سے صرف الزام تراشی میں اضافہ ہوگا اور ماحول مزید خراب ہی ہوگا۔‘

مزید کہا کہ پاکستان نے تجویز دی تھی کہ دہشت گردی پر بات کے ساتھ ساتھ اوفا کے اعلامیے کے تناظر میں فریقین کو کشمیر، سیاچن اور سرکریک سمیت تمام حل طلب معاملات پر بات چیت کے طریقۂ کار اور ممکن ہو تو نظام الاوقات پر بھی بات کرنی چاہیے کیونکہ اسی سے دونوں ممالک کے درمیان امن کے امکانات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔

کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کے بارے میں بھارتی شرط کی بات کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ گذشتہ 20 برس سے دورۂ بھارت کے دوران پاکستانی رہنماؤں کی حرّیت رہنماؤں سے ملاقات ایک معمول رہی ہے۔ اس لیے بھارت کے لیے اب اس روایت کو تبدیل کرنے کی شرط غیر مناسب ہے۔

اس سے پہلے بھارتی خارجہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی بات چیت میں کسی تیسرے فریق کی موجودگی کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مذاکرات سے پہلے کبھی بھی بھارت نے حریت رہنماؤں کی پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات نہیں ہونے دی۔

’مذاکرات سے پہلے کا ملنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ انھیں سٹیک ہولڈر مانتے ہیں۔‘

سشما کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر ملنے اور مذاکرات سے پہلے ملنے میں بہت فرق ہے اور اس بار تو پاکستان نے ڈنکے کی چوٹ پر کہا ہے کہ حریت رہنما کشمیر کے نمائندے ہیں اور یہ تیسرا فریق بنانے والی بات ہے۔‘