’کسی شرط کے بغیر مذاکرات کے لیے بھارت جانے کو تیار ہوں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرکاری طور پر مذاکرات منسوخ نہیں ہوئے ہیں اور وہ اب بھی بغیر کسی شرط کے نئی دہلی جانے کے لیے تیار ہیں۔
سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرت تعطل کا شکار ہونے پر انھیں افسوس ہے اور یہ دوسری بار ہے کہ جب بھارت نے مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہا ہے
انھوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے رویے کا نوٹس لیں۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے اور قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات میں بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے شواہد دیے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ کی طرح بھارت سفارت کاری بھارتی میڈیا کے ذریعے کر رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے اس امر کو سامنے لایا گیا کہ قومی سلامتی کے مشیراجیت ڈووال ملاقات کے دوران شواہد پیش کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’دراصل، پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں را کے ملوث ہونے کے بارے میں ثبوت فراہم کیے جائیں گے۔ اگر 24اگست کو انھیں فراہم کرنے کا موقع نہ مل سکا تو امید ہے کہ آئندہ ماہ اجیت ڈووال نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم مودی کے ہمراہ آئے تو انھیں وہاں فراہم کیے جائیں گے۔ ‘
’اگر وہ ان مذاکرات میں پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے شواہد نہ پیش کر سکے تو اقوام متحدہ میں یہ شواہد پیش کیے جائیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ بھارت پاکستان پر مذاکرات کے لیے شرائط مسلط کر رہا ہے پاکستان نہیں۔
یاد رہے کہ بھارت کی وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو بتایا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی بات چیت سے قبل استقبالیہ میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں کو مدعو کرنا مناسب نہیں ہے۔
پاکستان نے بھارت کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان نئی دہلی میں مذاکرات کے موقع پر سرتاج عزیز کی کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
سنیچر کر اسلام آباد میں سرتاج عزیز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بھارت کی جانب سے مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی سینچر کی شام ہونے والے پریس کانفرنس کے بعد واضح ہو گا۔
مشیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دہشت گردی اور کشیمر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو بات ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر الزام عائد کیا ہے کہ اوفا میں طے ہونے والے معاہدے کے تحت قومی سلامتی کے مشیروں کے مذاکرات میں کشیمر کا ایجنڈا شامل نہیں ہو سکتا جو غلط ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ اوفا معاہدے کے تحت امن کے قیام کے لیے پاکستان اور بھارت تمام حل طلب مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے تین نکاتی ایجنڈا یوفا مذاکرات کے عین مطابق تھا۔
سرتاج عزیز کے مطابق پہلا نکات دہشت گردی کے امور سے متعلق ہے، دوسرا اوفا میں طے پانے والے فیصلوں سے متعلق تھا جن میں ماہی گیروں کی رہائی، مذہبی سیاحت کے بہتر سہولیات اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر کشیدگی کی صورتحال کم کرنے سے متعلق تھا۔
سرتاج عزیز کے مطابق مذاکرات کا تیسرا نکتہ کشمیر، سرکریک اور سیاچن سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات کے حوالے سے بات چیت کرنا تھا۔
’یہ کون نہیں جانتا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان سب سے اہم مسئلہ کون سا ہے اور اگر کشمیر مسئلہ ہی نہیں ہے تو لاکھوں بھارتی فوجیوں کی کشیمر میں تعیناتی بلا جواز ہے۔‘
سرتاج عزیز نے نئی دہلی پہچنے والے کشیمری رہنما شیبر شاہ کی حراست کو افسوس ناک قرار دیا اور کہا کہ ’یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘
سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ دو ماہ کے دوران لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی 100 سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کی ہے۔
سرتاج عزیز نے کہا کہ کشمیر مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل ہے تو پھر حرّیت رہنماؤں سے ملاقات پر بھارت کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان اور بھارت کے مشیر سلامتی اُمور کے درمیان ملاقات 23 اور 24 اگست کو نئی دہلی میں ہونی ہے۔







