سرتاج سے ملاقات کے متمنی حریت رہنما کی گرفتاری

شبیر شاہ کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنشبیر شاہ کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے

پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے وزیراعظم کے مشیر سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کے لیے نئی دہلی پہچنے والے کشمیری رہنما شیبر شاہ کو ایئر پورٹ پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

بھارتی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سینيچر کو علیحدگی پسند رہنما شبیر شاہ کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

وہ پاکستانی ہائی کمیشن کی دعوت پر پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے استقبالیہ میں شرکت کے لیے سری نگر سے نئی دہلی آئے تھے۔

بھارتی سرکاری خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق شبیر شاہ کے ہمراہ دیگر دو افراد کو بھی حراست میں لیا گيا ہے۔

بھارت نے کشمیری رہنما کو حراست میں لینے کا قدم ایک ایسے وقت اٹھایا ہے جب ایک دن پہلے جمعے کو بھارت نے پاکستان کو تجویز دی تھی کہ اس کے قومی سلامتی کے مشیر نئی دہلی میں موجودگی کے دوران حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات نہ کریں لیکن پاکستان نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

شبیر شاہ کی حراست کی خبروں پر پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

دوسری جانب قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز سے دہلی میں ملاقات پر کشیمر کے علیحدگی پسند رہنماؤں میں عدم دلچسپی نظر آ رہی ہے۔

جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک نے بغیر کوئي وجہ بتائے نئی دہلی میں سرتاج عزیز کے ساتھ مجوزہ ملاقات سے گریز کیا ہے جبکہ میر واعظ عمر فاروق اور علی شاہ گیلانی دونوں ممالک کے مشیروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد ملاقات کریں گے۔

اکستان نے پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات سے قبل بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناکستان نے پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات سے قبل بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

میر واعظ اتوار کی شام کو جبکہ علی شاہ گیلانی پیر کو سرتاج عزیز سے ملاقات کریں گے۔

اوفا کانفرنس کے دوران نریندر مودی اور نواز شریف نے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کا ذکر نہ کیے جانےپر کشمیری ناراض ہوئے تھے اور انھوں نے رواں برس جولائی میں پاکستانی سفارت خانے پر عید ملن تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔

تاہم ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ علیحدگی پسند رہنماوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے قبل اس طرح کی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہو۔

اس کا فوری پس منظر یہ ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پچھلے سال نومبر میں اقتدار سنبھالتے ہی یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم تو کریں گے لیکن کشمیر یا کشمیریوں کو کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنائیں گے۔

پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کی دہلی میں کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کرنے کے فیصلے کے بعد جمعرات کو سرینگر میں مقامی پولیس نے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر، اور یاسین ملک کو گرفتار کیا تھا تاہم مقامی حکومت کی مداخلت کے بعد انھیں فوراً رہا کر دیا۔

اس ڈرامائی واقعے کے بعد ایک اور ڈرامائی تبدیلی یہ ہوئی کہ علیحدگی پسندوں نے سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ’لو پروفائل رویہ‘ اختیار کر لیا۔