پاک بھارت تعلقات: اوفا کے بعد اب دہلی کا سفر

دونوں ممالک کے رہنماؤں کی گذشتہ ماہ اوفا میں ملاقات ہوئی

،تصویر کا ذریعہPID

،تصویر کا کیپشندونوں ممالک کے رہنماؤں کی گذشتہ ماہ اوفا میں ملاقات ہوئی
    • مصنف, ذیشان ظفر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

ماضی کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا عمومی پیٹرن یہی رہا ہے کہ دونوں جانب سے پیش آنے والے واقعات کے بعد الزام تراشیوں سے تعلقات کو کشیدگی کی جانب لے جایا جائے اور پھر اس میں کمی کی کوششیں کی جائیں، لیکن ان کو ٹھوس تعلقات میں بدلنے میں کوئی غیر معمولی اقدام اٹھانے سے’گریز‘ ہی کیا جائے۔

اب بھارت اور پاکستان کے درمیان سلامتی امور کے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز بھارت کا دورہ کر رہے ہیں لیکن اس وقت بھی دونوں جانب سے الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے اور سرحدوں پر کئی ماہ سے کشیدگی جاری ہے۔

<link type="page"><caption> پاک بھارت تعلقات کے نشیب و فراز</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/indepth/india_pakistan_relations_zs" platform="highweb"/></link>

دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے پہلے ہونے والے واقعات میں سے چند کا احوال

مئی 2013 میں دہلی میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات میں تعلقات کو معمول پر لانے پر بات ہوئی اور اس کے 14 ماہ بعد روسی شہر اوفا میں ملاقات میں پھر اسی نکتے پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی دہلی میں ملاقات کرانے کا فیصلہ کیا۔

بھارت نے الزام عائد کیا کہ گورداس پور میں حملہ آور پاکستان سے آئے تھے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنبھارت نے الزام عائد کیا کہ گورداس پور میں حملہ آور پاکستان سے آئے تھے

لیکن اوفا میں کیے گئے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگا اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے یہ ملاقات بھی کٹھائی میں پڑتی دکھائی دی۔

اس ملاقات کے بعد پاکستانی وزیراعظم کو وطن واپسی پر یہ کہہ کر خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ملاقات میں کشمیر کے تنازعے کی بات نہیں کی گئی اور اسی وجہ سے دہلی میں<link type="page"><caption> پاکستانی ہائی کمیشن میں عید ملن پارٹی میں کشمیری حریت کانفرنس کے نمایاں رہنماؤں نے شرکت سے انکار کر دیا۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150714_gillani_decline_pak_invitation_rwa" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاکستان میں کشمیر کو مسئلے کو نہ اٹھانے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے اوفا ملاقات کے تیسرے ہی دن وزیر اعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سینیٹر سرتاج عزیز نے بیان دیا کہ اس ملاقات میں بھی کشمیر کا معاملے پر بات ہوئی اور بھارتی قیادت پر واضح کیا گیا ہے کہ کشمیر پر بات کیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150713_pakistan_india_kashmir_sh" platform="highweb"/></link>

اوفا میں ملاقات سے پہلے دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور اس میں ملاقات کے بعد کچھ کمی آئی لیکن تھوڑے ہی دن بعد دوبارہ فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا جس میں جہاں عام شہری مارے گئے وہیں پاکستان کی جانب سے اپنی حدود میں بغیر پائلٹ کے بھارتی جاسوس طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔

19 جولائی کو پاکستان نے بیان دیا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کر کے اوفا سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔

<link type="page"><caption> اس دوران 22 جولائی کو وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کو آموں کا تحفہ بھیجا اور 27 جولائی کو پاکستان کی سرحد سے متصل بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع گورداس پور میں تھانے پر حملہ ہوا جس میں تین حملہ آوروں سمیت دس افراد مارے گئے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150727_gurdaspur_police_station_attack_mb" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> اس واقعے کے دو دن بعدبھارت نے الزام عائد کیا کہ گورداس پور تھانے پر حملہ کرنے والے شدت پسند سرحد پار پاکستان سے آئے تھے جبکہ پاکستان نے اس الزام کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے الزامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150730_gurdaspur_attack_pakistan_zz" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> سرحدوں پر فائرنگ جاری کشیدگی کے دوران 31 جولائی کو وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی ملک میں مداخلت کے معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/07/150731_na_sartaj_aziz_raw_involvement_pak_hk" platform="highweb"/></link>

دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جھڑپیں بھی جاری رہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشندونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جھڑپیں بھی جاری رہیں

<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/08/140818_india_calls_off_talks_gh" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> پاکستانی کے اعلیٰ سفارتی اہلکار کی جانب اس بیان کے دو دن بعد بھارت نے بھارت نے پاکستان کو رواں ماہ کے آخر میں قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات کی تجویز دی اور 7 اگست کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر نتیجہ خیز مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/08/150807_indo_pak_fruitful_talks_sr" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> م</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150806_jammu_attack_pakistan_sr" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> شیر خارجہ کے اس بیان سے ایک دن پہلے ہی چھ اگست کو بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ جموں خطے کے ضلع ادھم پور میں بارڈر سکیورٹی فورس کی ایک بس پر فائرنگ کرنے والے شدت پسندوں کا تعلق پاکستان ہے۔ پاکستان نے اس الزام کی سختی سی تردید کی۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150806_jammu_attack_pakistan_sr" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> 19</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/08/150818_ban_ki_moon_pak_india_tension_hk" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> اگست کو جہاں پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر بھارت سے احتجاج کیا، وہیں تعلقات بہتر کی بجائے خراب زیادہ خراب ہونے پر اسی دن اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کی سرحدی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے کہا ہے کہ وہ ’انتہائی ضبط‘ کا مظاہرہ کریں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/08/150818_ban_ki_moon_pak_india_tension_hk" platform="highweb"/></link>

اب دونوں ممالک کے سکیورٹی مشیروں کی 23-24 اگست کو دہلی میں ملاقات سے پہلے پاکستانی ہائی کمیشن نے دہلی میں ایک استقبالیے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں کو مدعو کیا ہے اور اس کے جواب میں بھارتی حکام نے علیحدگی پسند کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو نظر بند کر دیا ہے۔

کٹھمنڈو میں ملاقات نہیں ہوئی، صرف مصافحہ ہوا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنکٹھمنڈو میں ملاقات نہیں ہوئی، صرف مصافحہ ہوا

<link type="page"><caption> </caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2014/11/141127_pak_india_relations_zz" platform="highweb"/></link><link type="page"><caption> اس پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے الزامات کے بجائے تعاون پر زور دے اور وہ کشمیری رہنماؤں کو پاکستان کے مشیر برائے خارجہ اور سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کرنے کی اجازت دے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2015/08/150820_fo_weekly_briefing_sr" platform="highweb"/></link>

ان حالات میں دونوں ممالک کے حکام کے بعد دہلی میں ملاقات ہو رہی ہے اور موجودہ زمینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس ملاقات میں شاید کسی بریک تھرو کے امکان کم ہیں۔

اس سے پہلے ماضی میں ایسے کئی مواقع آئے جب دونوں ہسمایوں نے اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے عہد کیے لیکن یہ کبھی وفا نہیں ہو سکے۔ ان میں پہلے کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے معاملات خراب ہونے کا تاثر ملتا تھا پھر بات دہشت گردی کے مسئلے پر آ کر رک جاتی۔

<link type="page"><caption> دونوں ممالک کے تعلقات کے تناظر میں اوفا میں نواز مودی ملاقات سے پہلے رونما ہونے والے واقعات کے لیے یہاں کک کریں۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/07/150710_pak_india_relations_zz" platform="highweb"/></link>