’بھارت دہشت گردی کے الزامات کے بجائے تعاون پر زور دے‘

    • مصنف, سارہ حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت کے موقعے پر کشمیری رہنماؤں سے ملاقات معمول کی بات ہے، اس لیے اس ملاقات سے کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان بھارت سے توقع رکھتا ہے کہ وہ کشمیری رہنماؤں کو پاکستان کے مشیر برائے خارجہ اور سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کرنے کی اجازت دے گا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے حکام کے درمیان ملاقات میں کشمیر سمیت تمام امور پر گفتگو کی جائے گی۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بھارت کے مشیر سلامتی امور کے درمیان 23 اور 24 اگست کو نئی دہلی میں ملاقات ہو رہی ہے اور بھارت نے گورداس پور میں حملے کے بعد دونوں ممالک کے مشیرانِ سلامتی اُمور کے درمیان ملاقات کی تجویز دی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نئی دہلی میں ہونے والے مذاکرات میں سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی شرکت کریں گے۔

قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو مشترکہ مسائل کا سامنا ہے جسے بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہے، یہ صرف بھارت کا مسئلہ نہیں ہے، پاکستان کا بھی ہے اور تقریباً 60 ہزار پاکستانیوں نے دہشت گردی کی وجہ سے جانیں گنوائی ہیں۔‘

پاکستان اور بھارت کے مشیر خارجہ و سلامتی امور کے درمیان ملاقات میں کشمیر سمیت تمام امور پر گفتگو کی جائے گی: قاضی خلیل اللہ
،تصویر کا کیپشنپاکستان اور بھارت کے مشیر خارجہ و سلامتی امور کے درمیان ملاقات میں کشمیر سمیت تمام امور پر گفتگو کی جائے گی: قاضی خلیل اللہ

’دہشت گردی ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اگر بھارت دہشت گردی کے الزامات کے بجائے ’تعاون‘ پر زور دے تو اس سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔‘

ترجمان نے کہا کہ بھارت نے گذشتہ دو ماہ کے دوران بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی 70 مرتبہ خلاف ورزی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ہر موقعے پر سرحدی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اُٹھائی ہے۔

پاکستان نے مشیر برائے سلامتی امور سرتاج عزیز سے ملاقات کے لیے کشمیری حریت رہنماؤں کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں مدعو کیا ہے، جس پر بھارت نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا: ’یہ پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا ہے جو ہم اس ملاقات سے کوئی نتیجہ اخذ کریں۔ خاص کر ایسے اہم موقعے پر جب دونوں ممالک کی بات چیت ہوتی ہے تو اُن سے مشاورت کی جاتی ہے کیونکہ کشمیر کے مسئلے کے حل میں کشمیریوں کا کردار اہم ہے۔‘

پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے دعوت نامے پر مشاورت کے بعد حریت کانفرنس کے سینیئر رہنما سید علی شاہ گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے استقبالیے میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم بھارتی حکام نے سید علی گیلانی کی نظربندی ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ روس کے شہر اوفا میں وزیراعظم نواز شریف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات میں قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات پر اتفاق کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ افغان میڈیا میں پاکستان کے خلاف مہم اور سرحد پر ہونے والے واقعات کو روکنے کے لیے پاکستان میں افغانستان کے سفیر کو طلب کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ افغان سفیر کو بتایا گیا کہ اس طرح کے واقعات دونوں ممالک کے رہنماؤں کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں معاون کا کردار ادا کیا ہے جسے دنیا بھر نے سراہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اب مذاکرات میں پیش رفت افغانیوں کو کرنی ہے۔