حرّیت والے ڈھیلے کیوں پڑ گئے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارت کے زیرِ انتظام جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک نے کوئی وجہ بتائے بغیر نئی دہلی میں پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی سرتاج عزیز کے ساتھ مجوزہ ملاقات سے گریز کیا ہے۔
23 اگست یعنی اتوار کی شام یاسین ملک نہیں بلکہ کشیمر لبریشن فرنٹ کے سینیئر مگر غیر معروف رہنما دہلی میں سرتاج عزیز سے ملاقات کریں گے۔
حریت کانفرنس کے رہنما سید علی گیلانی بذات خود دہلی جارہے ہیں مگر وہ سرتاج عزیز کے ساتھ 23 کے بجائے 24 اگست کو ملاقات کریں گے۔ اس تاخیر کا مطلب ہے کہ سرتاج عزیز اپنے بھارتی ہم منصب اے کے ڈووال کے ساتھ مذاکرات کے ایک دن بعد علی گیلانی سے ملیں گے۔
میر واعظ عمر فاروق بھی اتوار کو دہلی جائیں گے لیکن اُن سے ملاقات کے اوقات شام کو طے ہیں یعنی سلامتی مشیروں کے مذاکرات کے بعد!
کشمیریوں کے ساتھ ملاقات بھارت کے ساتھ مذاکرات سے پہلے ہوتے ہیں یا مذاکرات کے بعد، اس امر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
دراصل پاکستان کشمیریوں کو مذاکراتی عمل میں ایک فریق مانتا ہے اور مسئلہ کشمیر کو سہ فریقی مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر آمادہ ہیں لیکن بھارت شملہ معاہدہ کی روُ سے کسی تیسرے فریق کی شمولیت کا مخالف ہے۔
اب پاکستان نے ایک متبادل طریقہ اختیار کرتے ہوئے گذشتہ چند برسوں سے ایک معمول یہ بنایا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات سے قبل کشمیریوں کے ساتھ مشاورت کی جائے۔
مذاکرت سے قبل یہ ملاقاتیں واجپائی اور منموہن سنگھ کے 15 سالہ اقتدار کے دوران بغیر خلل ہوتی رہیں ہیں لیکن نریندر مودی اس پالیسی میں شفٹ پر بضد ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دریں اثنا ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ علیحدگی پسند رہنماوں نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات سے قبل اس طرح کی عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا ہو۔ اس کا فوری پس منظر یہ ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے پچھلے سال نومبر میں اقتدار سنبھالتے ہی یہ ارادہ ظاہر کیا تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم تو کریں گے لیکن کشمیر یا کشمیریوں کو کسی مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔
گذشتہ برس اگست میں جب دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری علیحدگی پسندوں کو پاکستان بھارت مذاکراتی ایجنڈے پر مشاورت کے لیے دہلی مدعو کیا تو نریندر مودی نے مذاکرات ہی معطل کر دیے تھے۔
اس بار معاملہ مختلف ہے۔ خفیہ سطحوں پر دونوں ملکوں کے سفیر اور ٹریک ٹو کارکن ماحول سازی میں مصروف ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ روس کے اوفا شہر میں نریندر مودی اور نواز شریف کی ملاقات انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔
لیکن مشیر سلامتی اُمور کے اجلاس سے قبل پاکستان نے پھر ایک بار مذاکرات کے حاشیے پر علیحدگی پسندوں کی علامتی موجودگی پر اصرار کیا تو بھارتی حکومت تذبذب کا شکار ہوگئی۔
یہ مذاکرات سرحدوں پر زبردست کشیدگی اور کشمیر میں مسلح تشدد کی نئی لہر اور بھارتی پنجاب کے ضلع گرداس پور میں مسلح حملے کے پس منظر میں ہو رہے ہیں۔
ایسے میں گذشتہ برس کی طرح مذاکرات کو معطل کرنے میں بھارت کو تامل ہے۔
تاہم بعض بھارتی حلقوں نے نریندر مودی کی طرف سے حرّیت رہنماؤں کی دہلی میں محض نمائشی موجودگی پر آبلہ پا ہونے کو غیرضروری اعتراض سے تعبیر کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP GETTY
شاید نریندر مودی کے اعتراض کی وجہ ہی سے جمعرات کو سرینگر میں مقامی پولیس نے سید علی گیلانی، میر واعظ عمر، اور یاسین ملک کو گرفتار کیا اور مقامی حکومت کی مداخلت کے بعد فوراً رہا کر دیا۔
اس ڈرامائی واقعے کے بعد ایک اور ڈرامائی تبدیلی یہ ہوئی کہ علیحدگی پسندوں نے سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ’لو پروفائل رویہ‘ اختیار کر لیا ہے۔ یاسین ملک نہیں جا رہے ہیں اور گیلانی تاخیر سے جائیں گے۔ یاسین ملک نے اس بائیکاٹ کا جواز ظاہر نہیں کیا ہے، تاہم سید گیلانی نے اپنی تاخیر کے بارے میں کہا کہ وہ تنظیمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اوفا کانفرنس کے دوران نریندر مودی اور نواز شریف نے مشترکہ اعلامیے میں کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا جس پر کشمیری ناراض ہوگئے تھے اور انھوں نے جولائی میں پاکستانی سفارت خانے پر عید ملن تقریب کا بائیکاٹ کیا تھا۔
سرتاج عزیز کے ساتھ ملاقات کے لیے علیحدگی پسندوں کا جوش و جذبہ ٹھنڈا ہونے کے پیچھے جو بھی محرکات کارفرما ہوں، یہ تبدیلی بھارت کے دفترِ خارجہ کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی دفتر خارجہ نے نجی سطح پر پاکستان کو یہ باور کروایا تھا کہ مذاکرات میں علیحدگی پسندوں کے اہم رہنماؤں کی شمولیت سے ’بدمزگی‘ پیدا ہو گی۔
بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ پچھلے 25 برس کے دوران پاکستان نے جس انداز سے بھارت کے ساتھ سفارتی مول تول کے لیے حریت کانفرنس کا استعمال کیا اس نے کشمیریوں کی فریقانہ حیثیت کو مضبوط کرنے کی بجائے اسے کمزور کر دیا ہے۔
ایک سینیئر علیحدگی پسند رہنما نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا: ’ آج تک پاکستان نے بھارت سے ایک بھی ایسی رعایت نہِیں لی ہے جس سے یہاں کے لوگوں کی زندگی آسان ہو جاتی۔ ہماری تحریک کو محض اس مطالبے تک محدود کیا گیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کی مذاکراتی میز پر ہمارے لیے اضافی کرسی رکھ دی جائے۔ یہ سب جانتے ہیں کہ حتمی فیصلہ دو ملکوں کو کرنا ہے اور ہمیں سلطانی گواہ کے طور موجود رہنا ہے۔‘







