سرحد پر امن قائم رکھنا انتہائی اہم ہے: ایس جے شنکر

،تصویر کا ذریعہAP
بھارتی سیکریٹری خارجہ ایس جے شنکر نے منگل کو دو روزہ دورے پر پاکستان آمد کے بعد اسلام آباد میں اپنے پاکستانی ہم منصب سے ملاقات کی ہے۔
ایس جے شنکر اور پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری کی ملاقات اسلام آباد میں دفترِ خارجہ میں ہوئی۔
<link type="page"><caption> پاک بھارت مذاکرات کی باقاعدہ بحالی؟</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2015/03/150302_pak_india_relations_sq.shtml" platform="highweb"/></link>
ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے اپنے مختصر بیان میں بھارتی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ مثبت ماحول میں ہونے والی یہ بات چیت تعمیری رہی۔
انھوں نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات پر بھی بات ہوئی اور ’ہم نے کھلے ذہن کے ساتھ ایک دوسرے کے خدشات اور مفادات پر بات کی۔‘
ایس جے شنکر کے مطابق ملاقات میں دونوں ممالک نے ’ساتھ مل کر کام کرنے، اتفاقِ رائے کے نکات تلاش کرنے اور اختلافات کم کرنے پر اتفاق کیا۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ سرحد پر امن قائم رکھنا انتہائی اہم ہے۔
ایس جے شنکر نے بتایا کہ ملاقات میں بھارت کی جانب سے ممبئی حملوں سمیت سرحد پار دہشت گردی کے معاملات پر اس کے دیرینہ موقف کو دہرایا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سارک کو آگے بڑھانے کے معاملات پر تبادلۂ خیال کیا۔ پاکستان سارک کا اگلا چیئرمین ہوگا اور بھارت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتا ہے تاکہ سارک اپنی بھرپور استعداد کے مطابق کام کر سکے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاک بھارت مذاکرات کی باضابطہ بحالی کا ٹائم فریم نہیں
پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ بھارتی سیکریٹری خارجہ سےکشمیر سمیت مختلف امور پر بات ہوئی۔ ان کے بقول سیاچن، سرکریک اور دیگر امور پر بات چیت کرنے پر اتفاق کیاگیا۔
اعزازچودھری کا کہنا تھا کہ بھارتی ہم منصب سے کنٹرول لائن پر کشیدگی کا معاملہ اور سمجھوتا ایکسپریس کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
انھوں نے نے کہا کہ دوطرفہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی سیکریٹری خارجہ کے بقول تمام تصفیہ طلب معاملات کو حل کرنے کے لیے طریقۂ کار وضع کرنے پراتفاق کیا گیا۔
تاہم انھوں نے وضاحت کی کہ پاک بھارت مذاکرات کی باضابطہ بحالی کا ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔ انھوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو قابل قبول حل ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پردو طرفہ تعاون ہونا چاہیے۔
وزیرِ اعظم سے ملاقات
ایس جے شنکر منگل کی شام وزیرِاعظم سے بھی ملاقات کی۔فریقین نے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور خطے کی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر اسلام آباد میں بھارت کے ہائی کمشنر، مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری بھی موجود تھے۔
بھارت نے گذشتہ برس دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی کشمیری حریت رہنماؤں سے ملاقات کو جواز بنا کر پاکستان سے سیکریٹری سطح کے مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس اقدام کے بعد پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ دو طرفہ مذاکرات کی بحالی بھارت کی ذمہ داری ہے کیونکہ یہ عمل اسی نے معطل کیا ہے۔
ایس جے شنکر کے اس دورۂ پاکستان کی اطلاع 13 فروری کو بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی نے پاکستانی وزیرِ اعظم کو ٹیلیفونک بات چیت میں دی تھی۔
خیال رہے کہ بھارت میں قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں تلخی میں اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جھڑپوں کے متعدد واقعات پیش آئے جس کی وجہ سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔







