’میڈیا دو سال کے لیے ریٹنگ کو بھول کر حکومت کا ساتھ دے‘

دو سال کے لیےمیڈیا اپنی ریٹنگ اور بزنس بھول جائے: وزیراعظم
،تصویر کا کیپشندو سال کے لیےمیڈیا اپنی ریٹنگ اور بزنس بھول جائے: وزیراعظم

پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے ملکی میڈیا سے کہا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے اپنائے گئے قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

سنیچر کو لاہور میں کاؤنسل آف پاکستان ایڈیٹرز کی جانب سے منعقدہ تقریب میں ان کا کہنا تھا کہ انھیں میڈیا کی آزادی سے بہت پیار ہے لیکن میڈیا کم از کم دو سال کے لیے اپنی ریٹنگ اور بزنس بھول جائے اور حکومت کا ساتھ دے۔

نواز شریف نے کہا کہ وہ میڈیا سے توقع کرتے ہیں کہ قومی سلامتی کے مسائل پر بالغ نظری کے ساتھ متوازن رپورٹنگ کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’اس وقت پاکستان کے ہر ادارے کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ پاکستان کو اس گرداب سے نکالنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے، یہ ملک ٹھیک ہو جائے گا تو آپ کے ادارے بھی بھرپور طریقے سے چلیں گے آپ کی ریٹنگز بھی بڑھتی رہیں گی۔‘

نواز شریف نے اسلام آباد میں تحریکِ انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے میں میڈیا کے چند اداروں کے کردار اور حکومت کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے دعوؤں کا تذکرہ بھی کیا۔

وزیراعظم نے کہا ’کہ ہم جکڑے گئے تھے لیکن ہم نے میڈیا کو نہیں جکڑا۔‘

میاں نواز شریف نے کہا کہ میڈیا کے اداروں میں ایسا نظام ہونا چاہیے جو آئین اور قانون کے خلاف چلنے والوں کا محاسبہ کر سکے

نامہ نگار عدیل اکرم کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان پہلے ہی آئین اور قانون سے ہٹنے کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے اور اب ملک اِس کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔‘

نواز شریف نے کہا کہ میڈیا کو اپنے لیے ضابطہ اخلاق خود بنانا چاہیے کیوں کہ اگر حکومت ایسا کرے گی تو پھر یہ شور مچایا جائےگا کہ حکومت میڈیا پر پابندی لگا رہی ہے۔

تاہم انھوں نے اس ضابطہ اخلاق کو ترتیب دینے میں مدد کی پیش کش بھی کی اور یہ بھی کہا کہ میڈیا انسدادِ دہشت گردی کے لیے مرتب کیے جانے والے قومی لائحہ عمل میں اپنی تجاویز دے سکتا ہے۔

اپنے خطاب میں ملک کی دہشت گرد تنظیموں پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو تنظیمیں ملک کے اندر موجود ہیں اور دہشت گردوں کی معاونت کر رہی ہیں ان کے خلاف بھی اسی طرح کا ضربِ عضب شروع کرنے کی ضرورت ہے جس طرح کا شمالی وزیرستان میں ہو رہا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے 13 فروری کو پاکستانی ہم منصب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطہ کیا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیراعظم نے 13 فروری کو پاکستانی ہم منصب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے رابطہ کیا

ملک بھر کی مساجد میں دیگر مسلم ممالک کی طرح جمعے کا ایک ہی خطبہ دیے جانے سے متعلق سوال کے جواب نے وزیراعظم نے کہا ’نیشنل ایکشن پلان میں یہ چیزیں موجود ہیں میرا خیال ہے کہ جو زیادہ سنگین مسائل ہیں ان پر پہلے ہاتھ ڈالیں اور ساتھ ساتھ انہیں بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کریں گے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مدارس کے نصاب کا کام بعض لوگوں کو سونپا گیا ہے اور وہ کام کر رہے ہیں۔

بھارت سے مذاکرات کی بحالی

پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا جائے گا اوران سے تمام معاملات پر بات چیت ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیکرٹری خارجہ مذاکرات ایک بار پھر شروع ہو رہے ہیں جس کا ذکر بھارتی وزیرِ اعظم نے ان سے جمعے کو ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران کیا ہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’بھارتی سیکرٹری خارجہ آئیں ہم انھیں ویلکم کریں گے۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ’بھارت سے یہ پوچھنے کی کیا ضرورت ہے کہ سب امور پہ بات ہو گی یا نہیں۔ ہم سب پہ بات کریں گے، پچھلے دنوں میں ہم نے کشمیر پہ بہت باتیں کی ہیں ان تک پہنچی ہیں اور یقیناً کشمیر پہ بھی بات کریں گے اور باقی معاملات پر بھی بات کریں گے۔‘

پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں مبینہ طور پر غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ بلوچستان کے حوالے سے بھی ایسے شواہد ہیں اور کہیں کہیں ایک دوسرے کے خلاف پراکسی وار بھی لڑی جا رہی ہے۔

’خدشات ہیں اور بعض معاملات میں شواہد بھی ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ ان معاملات کو بجائے کہ ہم سیاسی طور پر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں بیٹھ کر سنجیدگی کے ساتھ بات کریں۔ ہم بات کر رہے ہیں کہ یہ سلسلہ نہ آپ کے حق میں ہے نہ ہمارے حق میں ہے نہ کسی کے حق میں ہے۔‘