’بھارت سکیورٹی فورسز کو شہریوں پر فائرنگ سے باز رکھے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی دفترِ خارجہ نے لائن آف کنٹرول پر اپنے 60 سالہ شہری کی ہلاکت پر بھارت سے احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کو سرحد پر پاکستانی شہریوں پر گولی چلانے سے باز رکھے۔
سنیچر کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے راولا کوٹ سیکٹر کے پولاس نامی گاؤں میں بھارتی فورسز کی بلاشتعال فائرنگ کے نتیجے میں محمد اسلم نامی پاکستانی شہری کی ہلاکت ہوئی ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ 60 سالہ محمد اسلم پاکستانی لائن آف کنٹرول کے علاقے میں 100 سے 150 میٹرتک اندر موجود تھےاور لکڑیاں کاٹ رہے تھے جب وہ سرحد پار سے کی جانے والی فائرنگ میں 3 گولیوں کا نشانہ بنے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی فائرنگ کے بعد پاکستان نے جوابی فائرنگ کی۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیاں روکے اور اپنی فورسز کو پاکستانی شہریوں پر گولی چلانے سے باز رہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے واقعے کی مذمت کی ہے اور بھارت سے کہا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی فورسز کو پاکستانی شہریوں پر فائرنگ سے روکے اور سرحد اور لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی حلاف ورزیاں بند کرے۔

،تصویر کا ذریعہAbid Bhat
جمعے کو بھارتی وزیراعظم نے پاکستانی ہم منصب کو فون کر کے پاک بھارت مذاکرات کو بحال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ ضابطے کے تحت پہلے مرحلے میں بھارتی سیکرٹری خارجہ پاکستان آئیں گے۔
پاکستان کے وزیراعظم نے سنیچر کو اپنے ایک بیان میں بتایا تھا کہ بھارتی سیکرٹری خارجہ سے کشمیر سمیت تمام امور پر بات چیت کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ حال ہی میں اپنے دورۂ امریکہ کے دوران پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی کارروائیوں کی وجہ سے پاکستان کے لیے افغان سرحدی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں مشکلات درپیش ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ 2003 میں ہوا تھا۔
تاہم گذشتہ برس کے اواخر سے فریقین کی جانب سے ایک دوسرے پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔







