پاکستان بھارت سرحد پر ایک بار پھر فائرنگ کا تبادلہ

لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنلائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں

پاکستان اور بھارت کی ورکنگ باؤنڈری پر واقع بجوات اور پکھلیاں سیکٹرز میں اتوار کی صبح ایک مرتبہ پر بھارتی سکیورٹی فورسز اور چناب رینجرز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے تاہم کسی قسم کے جانے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ یعنی آئی ایس پی آر کے مطابق چناب رینجرز نے بھارتی فائرنگ کا بھرپور جواب دیا جس کے بعد فائرنگ کا سلسلہ تھم گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اتوار کی صبح ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں بھاری ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔

<link type="page"><caption> ’بھارت کو کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائرنگ سے روکا جائے‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2014/10/141019_sartaj_ban_ki_moon_talk_rwa" platform="highweb"/></link>

سنیچر کو بھارتی میڈیا میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بی ایس ایف کی چوکی پر موجود جوانوں کو بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنایا، لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان فائرنگ کے واقعات میں دونوں جانب سے اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور 50 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں۔

ہلاک ہونے والے 12 افراد کا تعلق پاکستان سے ہے۔

پاکستان اور بھارت ماضی میں بھی ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان سنہ 2003ء میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کے باعث پاکستان اور بھارت کے فوجیوں کے ساتھ ساتھ سرحد پر عام آبادی بھی نشانہ بنی ہے۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے اور بھارت کو کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر بلااشتعال فائرنگ سے روکے۔

پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر برائے امور خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سے ٹیلی فون پر تبادلہ خیال کیا۔

سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان معاملات معمول پر لانے کے لیے موثر کردار ادا کرے۔